ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ السجدة (32) — آیت 23

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ فَلَا تَکُنۡ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡ لِّقَآئِہٖ وَ جَعَلۡنٰہُ ہُدًی لِّبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ۚ۲۳﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، پس تو اس سے ملنے کے بارے میں کسی شک میں نہ رہ اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا۔ En
اور ہم نے موسٰی کو کتاب دی تو تم اُن کے ملنے سے شک میں نہ ہونا اور ہم نے اس (کتاب) کو (یا موسٰی کو) بنی اسرائیل کے لئے (ذریعہ) ہدایت بنایا
En
بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، پس آپ کو ہرگز اس کی ملاقات میں شک نہ کرنا چاہئے اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کی ہدایت کا ذریعہ بنایا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

23۔ ہم نے موسیٰ کو کتاب [24] دی تھی لہذا (اے نبی!) آپ کو اس کتاب کے ملنے [25] میں شک نہ رہنا چاہئے۔ یہ کتاب بنی اسرائیل کے لئے ہدایت تھی
[24] اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی آیات سے منہ موڑنے کا ذکر تھا۔ اسی نسبت سے یہاں تورات کا ذکر ہوا جو قرآن کے بعد سب الہامی کتابوں سے زیادہ مشہور ہے۔ تورات صرف بنی اسرائیل کے لئے ہدایت کی کتاب تھی جبکہ یہ قرآن پوری بنی نوع انسان کے لئے کتاب ہدایت ہے۔
[25] اس جملہ میں خطاب اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے مگر مخاطب سارے مومنین ہیں۔ کیونکہ نبی سب سے پہلے خود اپنی نبوت پر ایمان لاتا ہے۔ پھر دوسروں کو ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے۔ لہٰذا منزل من اللہ کلام پر رسول کا شک کرنا محالات سے ہے۔ اور ایسا انداز خطاب عموماً تاکید مزید کے لئے آتا ہے۔ یعنی مسلمانوں کو کسی قیمت پر بھی اس میں شک نہ کرنا چاہئے۔ بعض علماء نے اس آیت لقائه میں ہ کی ضمیر کو موسیٰ کی طرف راجع سمجھا ہے اور اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ آپ کی موسیٰ سے اسی دنیا کی زندگی میں ضرور ملاقات ہو گی اور آپ کو اس ملاقات کے بارے میں شک میں نہ رہنا چاہئے کہ آپ کی حضرت موسیٰؑ سے یہ ملاقات معراج کے موقع پر چھٹے آسمان پر ہوئی تھی۔