ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ السجدة (32) — آیت 17

فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعۡیُنٍ ۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۷﴾
پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے، اس عمل کی جزا کے لیے جو وہ کیا کرتے تھے۔ En
کوئی متنفس نہیں جانتا کہ اُن کے لئے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔ یہ ان اعمال کا صلہ ہے جو وہ کرتے تھے
En
کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیده کر رکھی ہے، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کی کیا کچھ چیزیں ان کے لئے چھپا [20] رکھی گئی ہیں یہ ان کاموں کا بدلہ ہو گا جو وہ کیا کرتے تھے۔
[20] جنت کی نعمتوں کی صفات:۔
ایسے لوگ جو رات کی تاریکیوں میں، لوگوں سے چھپ کر، ریا کاری سے بچتے ہوئے اللہ کو یاد کرتے اور اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ تو ان کا بدلہ بھی ایسی چیزیں ہوں گی جو اللہ نے ان کے لئے چھپا رکھی ہیں۔ وہ نعمتیں کیا ہوں گی وہ ایسے لوگوں کے دلوں اور ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوں گی۔ ان کی صفات بیان کرنے سے انسان کو اس دنیا میں سمجھ بھی نہیں آسکے گی۔ جس طرح اگر کسی شخص نے آم کبھی نہ کھایا ہو تو خواہ اس کے مزے کی تفصیل کتنی ہی بیان کی جائے۔ ایسے کبھی نہیں ہو سکتی جیسے کوئی شخص آم کھا کر محسوس یا معلوم کر سکتا ہے۔ اور جنت کی نعمتوں کا تو یہ حال ہے کہ نہ کبھی کسی نے دیکھیں، نہ سنیں، نہ چکھیں حتیٰ کہ کسی کے دل میں ان کا خیال تک بھی نہ آیا جب کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے پنے (نیک) بندوں کے لئے وہ نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی کے دل میں ان کا خیال تک آیا ہو“ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا کہ اگر تم چاہو تو (دلیل کے طور پر) یہ آیت پڑھ لو۔ ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ... الآية﴾ [بخاري۔ كتاب التفسير]