ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ السجدة (32) — آیت 12

وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذِ الۡمُجۡرِمُوۡنَ نَاکِسُوۡا رُءُوۡسِہِمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ رَبَّنَاۤ اَبۡصَرۡنَا وَ سَمِعۡنَا فَارۡجِعۡنَا نَعۡمَلۡ صَالِحًا اِنَّا مُوۡقِنُوۡنَ ﴿۱۲﴾
اور کاش! تو دیکھے جب مجرم لوگ اپنے رب کے پاس اپنے سر جھکائے ہوں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور ہم نے سن لیا، پس ہمیں واپس بھیج، کہ ہم نیک عمل کریں، بے شک ہم یقین کرنے والے ہیں۔ En
اور تم (تعجب کرو) جب دیکھو کہ گنہگار اپنے پروردگار کے سامنے سرجھکائے ہوں گے (اور کہیں گے کہ) اے ہمارے پروردگار ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا تو ہم کو (دنیا میں) واپس بھیج دے کہ نیک عمل کریں بیشک ہم یقین کرنے والے ہیں
En
کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

12۔ کاش آپ دیکھیں جب مجرم اپنے پروردگار کے حضور سر جھکائے کھڑے ہوں گے (اور کہیں گے) ”اے ہمارے رب! ہم نے (سب کچھ) دیکھ لیا اور سن لیا لہذا ہمیں واپس بھیج دے کہ ہم اچھے عمل کریں [13]۔ اب ہمیں یقین آ گیا ہے۔
[13] ان کا یہ مطالبہ بھی بالکل عبث ہو گا کیونکہ انسان کو عقل و شعور تو اس لئے دیا گیا تھا کہ ان سے کام لیتے ہوئے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور یہی ایمان بالغیب کا مطلب ہے۔ اور اسی چیز کا انسان سے مطالبہ ہے۔ پھر جب انسان نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ لیا تو اس کا ایمان اضطراری ہوا، اختیاری نہ رہا۔ نہ ہی اسے ایمان بالغیب کہہ سکتے ہیں۔ اس مقام پر ان کے اس مطالبہ پر جواب نہیں دیا گیا۔ جبکہ ایک دوسری جگہ پر یہ جواب دیا گیا ہے کہ دوبارہ دنیا میں بھیجنا اللہ کا دستور نہیں تاہم بفرض محال اگر ہم انھیں دوبارہ دنیا میں بھیج بھی دیں تو پھر یہ لوگ ویسے ہی کام کریں گے جیسے پہلے کر کے آئے ہیں۔ یہ لوگ پھر دنیا اور اس کی دلفریبیوں پر ویسے ہی مفتوں ہو جائیں گے جیسا کہ پہلے تھے۔ اور پہلی سی شرارتیں پھر شروع کر دیں گے۔