ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ السجدة (32) — آیت 11

قُلۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ مَّلَکُ الۡمَوۡتِ الَّذِیۡ وُکِّلَ بِکُمۡ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿٪۱۱﴾
کہہ دے تمھیں موت کا فرشتہ قبض کرے گا، جو تم پر مقرر کیا گیا ہے، پھر تم اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ En
کہہ دو کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تمہاری روحیں قبض کر لیتا ہے پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے
En
کہہ دیجئے! کہ تمہیں موت کا فرشتہ فوت کرے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ: موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر ہے تمہاری روح قبض [12] کر لے گا پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
[12] دوبارہ زندگی پر عقلی دلیل۔ انایا روح فنا نہیں ہو گی:۔
یہ کفار کے اعتراض کا مکمل جواب ہے یعنی کفار جو یہ کہتے ہیں کہ جب ’ہم‘ مٹی میں مل جائیں گے تو یہ ’ہم‘ کا تصور کہاں سے آیا؟ واضح سی بات ہے کہ گوشت پوست کے مجموعہ پر لفظ ’ہم‘ یا ’تم‘ کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ اور مرنے کے بعد گوشت پوست تو واقعی مٹی میں مل جائے گا۔ مگر یہ ’ہم‘ یا ’تم‘ تو مٹی میں نہیں مل سکتا۔ یہی وہ چیز ہے جو تم میں ہم نے پھونکی تھی۔ جس کی وجہ سے تم لوگ اپنے آپ کو ’ہم‘ یا ’تم‘ کہتے ہو۔ اور یہی چیز یا روح ہماری طرف سے تمہاری موت پر مقرر کردہ فرشتہ اپنے قبضہ میں کر لیتا ہے۔ اب تمہاری روح پھر ہمارے پاس آگئی۔ زمین کے جن عناصر سے تم پہلے بنے تھے۔ انھیں عناصر سے تم پھر بھی بنائے جا سکتے ہو۔ بلکہ زیادہ آسانی سے بنائے جا سکتے ہو۔ اور تمہاری روح جو ہمارے قبضہ میں ہے وہ پھر ہم تمہارے اجسام مٹی سے ہی بنا کر ان میں ڈال دیں گے اور اپنے پاس تمہیں لا حاضر کریں گے۔ اس وقت بھی وہی ’ہم‘ تم میں موجود ہو گا۔ جو آج موجود ہے۔ اور اسی ’ہم‘ سے تمہارے اعمال کی باز پرس ہو گی۔ واضح رہے کہ یہاں روح سے مراد روح حیوانی نہیں ہے جو ہر ذی حیات کو متحرک کرنے کا سبب ہوتا ہے۔ بلکہ یہاں روح سے مراد روح انسانی ہے۔ جس کی بنا پر انسان دوسرے تمام حیوانات سے ممتاز ہوا۔ اسے عقل و شعور بخشا گیا اور ارادہ و اختیار دے کر خلافت ارضی کا حامل بنایا گیا۔