ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ لقمان (31) — آیت 7

وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِ اٰیٰتُنَا وَلّٰی مُسۡتَکۡبِرًا کَاَنۡ لَّمۡ یَسۡمَعۡہَا کَاَنَّ فِیۡۤ اُذُنَیۡہِ وَقۡرًا ۚ فَبَشِّرۡہُ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۷﴾
اور جب اس پر ہماری آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتا ہے، گویا اس نے وہ سنی ہی نہیں، گویا اس کے دونوں کانوں میں بوجھ ہے، سو اسے دردناک عذاب کی خوش خبری دے دے۔ En
اور جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو اکڑ کر منہ پھیر لیتا ہے گویا اُن کو سنا ہی نہیں جیسے اُن کے کانوں میں ثقل ہے تو اس کو درد دینے والے عذاب کی خوشخبری سنادو
En
جب اس کے سامنے ہماری آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو تکبر کرتا ہوا اس طرح منھ پھیر لیتا ہے گویا اس نے سنا ہی نہیں گویا کہ اس کے دونوں کانوں میں ڈاٹ لگے ہوئے ہیں، آپ اسے درد ناک عذاب کی خبر سنا دیجئے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ اور جب اسے ہماری آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو تکبر سے یوں منہ پھیر لیتا ہے جیسے اس نے کچھ سنا [8] ہی نہیں گویا اس کے کانوں میں ثقل ہے۔ آپ اسے دردناک عذاب کی بشارت دے دیجئے۔
[8] یہ ہے اللہ کی آیات سے اس کی شان بے نیازی گویا وہ اللہ کی آیات سننے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتا اور اگر کانوں میں آواز پڑ بھی جائے تو ایسے سنی ان سنی کر دیتا ہے جیسے وہ ثقل سماعت کی وجہ سے بات سن ہی نہ پایا ہو۔ اور یہ سب کچھ وہ از راہ تکبر و نخوت کی بنا پر کرتا ہے لہٰذا اسے اس تکبر کی سزا دردناک عذاب کی صورت میں ملے گی۔