ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ لقمان (31) — آیت 18

وَ لَا تُصَعِّرۡ خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمۡشِ فِی الۡاَرۡضِ مَرَحًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ ﴿ۚ۱۸﴾
اور لوگوں کے لیے اپنا رخسار نہ پھلا اور زمین میں اکڑ کر نہ چل، بیشک اللہ کسی اکڑنے والے، فخر کرنے والے سے محبت نہیں کرتا۔ En
اور (ازراہ غرور) لوگوں سے گال نہ پھلانا اور زمین میں اکڑ کر نہ چلنا۔ کہ خدا کسی اترانے والے خود پسند کو پسند نہیں کرتا
En
لوگوں کے سامنے اپنے گال نہ پھلا اور زمین پر اترا کر نہ چل کسی تکبر کرنے والے شیخی خورے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ اور (از راہ تکبر) لوگوں سے اپنے گال نہ پھلانا، نہ ہی زمین میں اکڑ کر چلنا (کیونکہ) اللہ کسی خود پسند [24] اور شیخی خور کو پسند نہیں کرتا
[24] متکبرانہ حرکات:۔
گال پھلا پھلا کر باتیں کرنا اور اکڑ اکڑ چلنا یہ سب خود پسندوں اور متکبروں کی ادائیں ہیں۔ متکبر لوگوں کی گفتگو سے، وضع قطع سے، چال ڈھال سے غرضیکہ ان کی ایک ایک ادا سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو دوسروں کے مقابلہ میں بہت کچھ سمجھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگوں کی ایک ایک حرکت سخت ناگوار ہے [مزيد تشريح كے لئے ديكهئے سورة بني اسرائيل كي آيت نمبر 37 كا حاشيه نمبر 47 اور سورة الفرقان كي آيت نمبر 63 كا حاشيه نمبر 80]