ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ لقمان (31) — آیت 13

وَ اِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِہٖ وَ ہُوَ یَعِظُہٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشۡرِکۡ بِاللّٰہِ ؕؔ اِنَّ الشِّرۡکَ لَظُلۡمٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۳﴾
اور جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا، جب کہ وہ اسے نصیحت کر رہا تھا اے میرے چھوٹے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا، بے شک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے۔ En
اور (اُس وقت کو یاد کرو) جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا خدا کے ساتھ شرک نہ کرنا۔ شرک تو بڑا (بھاری) ظلم ہے
En
اور جب کہ لقمان نے وعﻆ کہتے ہوئے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا بیشک شرک بڑا بھاری ﻇلم ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ اور (یاد کرو) جب لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہا تھا کہ: ”پیارے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک [15] نہ بنانا، کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔
[15] بیٹے کو پہلی نصیحت، اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا:۔
ایک دفعہ حضرت لقمان نے چند نصیحتیں اپنے بیٹے کو فرمائیں کہ وہ اتنی اہم تھیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر فرمایا۔ دنیا میں اولاد ہی ایک ایسا رشتہ ہے جس کے متعلق انسان انتہائی خلوص برتتا ہے اور نفاق نہیں کر سکتا۔ اور اولاد ہی کے متعلق اس کی آرزو ہو سکتی ہے کہ وہ ہر بھلائی کی بات میں اس سے آگے نکل جائے۔ حتیٰ کہ ایسی آرزو انسان اپنے حقیقی بہن بھائیوں اور دوستوں تک سے بھی نہیں کر سکتا۔ چنانچہ پہلی نصیحت جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو وہ یہ تھی کہ اللہ کے ساتھ کبھی کسی کو شریک نہ بنانا۔ کیونکہ دنیا میں سب سے بڑی ناانصافی اور اندھیر کی بات یہی شرک ہی ہے۔ شرک مجسم ظلم اور سب سے بڑا ظلم ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے بھی واضح ہوتا ہے: حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ جب (سورہ انعام کی) یہ آیت اتری: ﴿اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ تو صحابہ کرامؓ پر بہت شاق گزری۔ وہ کہنے لگے ”ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے ایمان کے ساتھ ظلم (یعنی کوئی گناہ) نہ کیا ہو۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بتلایا کہ اس آیت میں ظلم سے ہر گناہ مراد نہیں ہے (بلکہ شرک مراد ہے) کیا ہم نے لقمان کا قول نہیں سنا۔ جو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا تھا: ﴿إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [بخاري۔ كتاب التفسير]
اللہ کا اپنے بندوں پر اور بندوں کا اپنے اللہ پر حق:۔
یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ اہل مکہ ایک طرف تو لقمان حکیم کے حکیم اور دانا ہونے کے قائل تھے، دوسری طرف شرک میں بھی بری طرح مبتلا تھے۔ انھیں بتلایا جا رہا ہے۔ کہ لقمان نے اپنے بیٹے کو جو نصیحتیں کی تھیں ان میں سر فہرست شرک سے ان کی نفرت اور بیزاری تھی۔ کیونکہ اللہ کا بندے پر سب سے بڑا حق یہ ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبلؓ سے فرمایا: ”تجھے معلوم ہے کہ اللہ کا اس کے بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟“ حضرت معاذؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ: ”اللہ اور اس کا پیغمبر ہی خوب جانتے ہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔ اور بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ جو بندہ شرک نہ کرتا ہو اللہ اسے عذاب نہ کرے“ (ہمیشہ دوزخ میں نہ رکھے) میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنا دوں؟“ فرمایا: ”ایسا نہ کرو ورنہ وہ اسی پر بھروسہ کر بیٹھیں گے“ [بخاری۔ کتاب الجہاد والسیر۔ باب اسم الفرس والحمار]