ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الروم (30) — آیت 60

فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ لَا یَسۡتَخِفَّنَّکَ الَّذِیۡنَ لَا یُوۡقِنُوۡنَ ﴿٪۶۰﴾
پس صبر کر، یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے اور وہ لوگ تجھے ہرگز ہلکا نہ کر دیں جو یقین نہیں رکھتے۔ En
پس تم صبر کرو بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے اور (دیکھو) جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ تمہیں اوچھا نہ بنادیں
En
پس آپ صبر کریں یقیناً اللہ کا وعده سچا ہے۔ آپ کو وه لوگ ہلکا (بے صبرا) نہ کریں جویقین نہیں رکھتے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

60۔ لہٰذا آپ صبر کیجئے۔ اللہ کا وعدہ سچا [66] ہے۔ ایسا نہ ہو کہ جو لوگ یقین نہیں کرتے وہ آپ کو ہلکا بنا دیں [67]۔
[66] اللہ کا یہ وعدہ اس سورۃ کی آیت نمبر 47 میں گزر چکا ہے اور وہ یہ ہے: ﴿حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ یعنی اللہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مومنوں کی مدد کرے۔ آپ کفار کی ایذاؤں پر صبر کیجئے خود بھی اور مسلمانوں کو بھی صبر و برداشت کی تلقین کیجئے۔ اللہ کا وعدہ اپنے وقت پر پورا ہو کے رہے گا۔
[67] یعنی ان کافروں کی مکاریوں اور سازشوں سے، ان کے مذاق و تمسخر سے، ان کی اسلام دشمن کارروائیوں سے، ان کی ایذاؤں اور مظالم سے، ان کے منافقانہ سمجھوتوں کی کوششوں سے اور ان کی دھمکیوں سے آپ کے پایۂ ثبات میں ہرگز لغزش نہ آنی چاہئے اور ان کو اسی بات کا یقین آجانا چاہئے کہ آپ اپنے مشن میں صبر و ثبات کا ایسا عظیم پیکر ہیں جسے کسی قیمت پر اپنی جگہ سے ہلایا نہیں جا سکتا۔