ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الروم (30) — آیت 43

فَاَقِمۡ وَجۡہَکَ لِلدِّیۡنِ الۡقَیِّمِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ یَوۡمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوۡنَ ﴿۴۳﴾
پس تو اپنا چہرہ سیدھے دین کی طرف سیدھا کر لے، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی اللہ کی طرف سے کوئی صورت نہیں، اس دن وہ جدا جدا ہو جائیں گے۔ En
تو اس روز سے پہلے جو خدا کی طرف سے آکر رہے گا اور رک نہیں سکے گا دین (کے رستے) پر سیدھا منہ کئے چلے چلو اس روز (سب) لوگ منتشر ہوجائیں گے
En
پس آپ اپنا رخ اس سچے اور سیدھے دین کی طرف ہی رکھیں قبل اس کے کہ وه دن آجائے جس کا ٹل جانا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ہی نہیں، اس دن سب متفرق ہو جائیں گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

43۔ پس (اے نبی!) اپنی توجہ درست اور متوازن دین کی طرف [50] مرکوز کیجئے بیشتر اس کے کہ وہ دن آ جائے جس کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ٹلنے کی کوئی صورت [51] نہیں ہے۔ اس دن لوگ پھٹ [52] کر الگ الگ ہو جائیں گے
[50] لہٰذا اے نبی! اور اے مسلمانو! مشرکوں کے ان تمام لغویات سے منہ موڑ کر دین فطرت کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔ کیونکہ ہر طرح کی خرابیوں اور فسادات کی جڑ یہ شرک ہی ہے۔ اور ان کا علاج صرف یہی ہے کہ اپنی تمام تر توجہ اللہ کی طرف مبذول کر لو اور اسی پر توکل رکھو۔
[51] یعنی جیسے موت ایک اٹل حقیقت ہے اور اسے کوئی بھی اپنے سے ٹال نہیں سکتا اور نہ اس کے وقت وہ تقدیم و تاخیر ہو سکتی ہے۔ اسی طرح قیامت بھی ایک اٹل حقیقت ہے جو نہ کسی کے ٹالے ٹل سکتی ہے نہ کوئی اسے اپنے آپ سے ٹال سکتا ہے اور نہ ہی اس میں تقدیم و تاخیر ممکن ہے اور ان دونوں حقیقتوں میں مناسبت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو کوئی مر گیا تو اسی دن اس کی قیامت قائم ہو گئی۔ [مشكوة كتاب الفتن۔ باب فى قرب الساعة وان من مات فقد قامت قيامة]
بالفاظ دیگر اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اپنے مرنے سے پہلے پہلے شرکیہ عقائد سے کلیتاً دستبردار ہو کر دین فطرت کی طرف آجاؤ۔
[52] یعنی کسی کافر کو یہ مجال نہ ہو گی کہ وہ مسلمانوں کی جماعت میں جا ملے۔ یا اگر پہلے ملا ہے تو وہیں رہ جائے بلکہ سب لوگ مجبور ہوں گے کہ اپنے سے تعلق رکھنے والی جماعت میں فوراً جا شامل ہوں۔ اور یہ کام اتنی سرعت سے ہو گا جیسے کوئی اکٹھا مجمع فوراً پھٹ کر کئی حصوں میں بٹ جائے۔