42۔ آپ ان سے کہئے: ذرا زمین میں چل پھر کر تو دیکھو کہ جو لوگ تم سے [49] پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا؟ ان میں اکثر مشرک ہی تھے۔
[49] ہر قسم کے فساد کی اصل وجہ شرک اور یوم آخرت سے انکار ہے :۔
یعنی سابقہ اقوام کی تباہی کا اصل سبب شرک تھا۔ اب مشرکین میں سے اکثر تو ایسے ہوتے ہیں جو روز آخرت کے منکر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ مشرکین مکہ کا حال تھا اور اگر ان کا آخرت پر عقیدہ ہو بھی تو پھر وہ اس عقیدہ میں کچھ ایسے اضافے کر لیتے ہیں جو عقیدہ آخرت کے اصل مقصد کو بے کار کر کے رکھ دیتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی کا یہ عقیدہ ہو کہ ہم قیامت کے دن فلاں حضرت کا دامن پکڑ لیں گے اور ان کے ساتھ ہی جنت میں جا داخل ہوں گے۔ یا مثلاً فلاں پیر حضرت کی بیعت کر لی جائے تو ان کی شفاعت سے ہم نجات پا جائیں گے یا یہ کہ فلاں بزرگ کے مزار پر جو بہشتی دروازہ بنا ہوا ہے اس کے عرس کے دن اگر گزرا جائے تو بہشت واجب ہو جائے گی۔ اب دیکھئے کہ اگر سستی نجات کے اس قسم کے عقیدے اپنا لئے جائیں تو اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کا کچھ خوف باقی رہ جاتا ہے۔ پھر ایسے مشرکوں میں اور عقیدہ آخرت کے منکر مشرکوں میں کتنا فرق باقی رہ جاتا ہے؟ عقیدہ آخرت کا صحیح تصور ہی انسان کو گناہوں سے باز رکھ سکتا ہے ورنہ انسان گناہوں پر دلیر ہو جاتا ہے۔ پھر یہی گناہ افراد اور اقوام کی تباہی کا باعث بن جاتے ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔