خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہوگیا، اس کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا، تاکہ وہ انھیں اس کا کچھ مزہ چکھائے جو انھوں نے کیا ہے، تاکہ وہ باز آجائیں۔
En
خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ خدا اُن کو اُن کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے عجب نہیں کہ وہ باز آجائیں
خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعﺚ فساد پھیل گیا۔ اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے (بہت) ممکن ہے کہ وه باز آجائیں۔
En
41۔ بحر و بر میں فساد پھیل گیا ہے جس کی وجہ لوگوں کے اپنے کمائے [47] ہوئے اعمال ہیں۔ تاکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے کچھ اعمال [48] کا مزا چکھا دے۔ شاید وہ ایسے کاموں سے باز آجائیں
[47] فساد فی الارض کا اصل سبب:۔
یہاں بر و بحر سے مراد پورا مشرق وسطی بھی ہو سکتا ہے جو ان دنوں روم اور فارس کی جنگوں کی وجہ سے ظلم اور فساد کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ اور عرب کا علاقہ بھی۔ کیونکہ اکثر عربی قبائل کا پیشہ ہی مار دھاڑ، لوٹ کھسوٹ اور قتل غارت تھا۔ اور اس فساد سے محفوظ اگر کوئی جگہ تھی تو وہ صرف حرم مکہ کی حدود تھیں۔ اور اس ظلم و فساد اور طغیانی کی اصل وجہ یہی تھی کہ وہ لوگ نہ بعث بعد الموت کے قائل تھے اور نہ اللہ کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کی جواب دہی اور جزاء و سزا کے۔ لہٰذا ہر شخص اپنے ذاتی اور دنیوی مفادات کی خاطر دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے ہر وقت مستعد رہتا تھا اور نتیجتاً یہ سرزمین ظلم و جور سے بھر گئی تھی۔ [48] یعنی یہ فساد ان کی اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے ظہور پذیر ہوا تھا۔ اور یہ ان کے اعمال کا بدلہ تھا۔ بلکہ اللہ کی طرف سے تھوڑا سا بدلہ تھا۔ اور اس تھوڑے سے بدلہ سے عام لوگ سخت پریشان حال تھے اور ان کے لئے زندگی اجیرن بن گئی تھی۔ اور یہ تھوڑی سی سزا اللہ نے انھیں اس لئے دی کہ شاید اب بھی وہ غور کر کے اس ظلم و فساد کی اصل وجہ تلاش کر لیں۔ اور اصل دین فطرت کی طرف لوٹ آئیں۔ آخرت کی جوابدہی سے ڈر جائیں اور اللہ کے فرمانبردار بن جائیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔