فِیۡ بِضۡعِ سِنِیۡنَ ۬ؕ لِلّٰہِ الۡاَمۡرُ مِنۡ قَبۡلُ وَ مِنۡۢ بَعۡدُ ؕ وَ یَوۡمَئِذٍ یَّفۡرَحُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۙ﴿۴﴾
چند سالوں میں، سب کام اللہ ہی کے اختیار میں ہے، پہلے بھی اور بعد میں بھی اور اس دن مومن خوش ہوں گے۔
En
چند ہی سال میں پہلے بھی اور پیچھے بھی خدا ہی کا حکم ہے اور اُس روز مومن خوش ہوجائیں گے
En
چند سال میں ہی۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی اختیار اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ اس روز مسلمان شادمان ہوں گے
En
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ اس (شکست) سے پہلے بھی اللہ ہی کا حکم چلتا تھا اور بعد میں بھی اسی کا چلے گا اور (جب رومیوں کو فتح ہو گی) اس دن مسلمان خوشیاں [1] منائیں گے
[1] سورہ روم میں دو بہت بڑی پیشن گوئیاں :۔
سورۃ روم کی ان ابتدائی آیات میں دو ایسی پیشین گوئیاں کی گئی ہیں جو اسلام اور پیغمبر اسلام کی رسالت کی حقانیت پر زبردست دلیل ہیں۔ ان میں پہلی پیشین گوئی یہ ہے کہ اگر آج روم شکست کھا گیا ہے تو چند ہی سالوں میں روم پھر ایران پر غالب آجائے گا۔ اور دوسری پیشین گوئی یہ تھی کہ اگر آج مسلمان مشرکین مکہ کے ہاتھوں مظلوم و مقہور ہیں۔ تو ان کو بھی اسی دن مشرکین مکہ پر غلبہ حاصل ہو گا جس دن روم ایران پر غالب آئے گا اور قرآن نے یہ دونوں پیشین گوئیاں ایسے وقت میں بیان کیں جبکہ ان پیشین گوئیوں کے پورا ہونے کے دور دور تک کہیں آثار نظر نہیں آرہے تھے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ جس زمانہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عطا ہوئی (610 ء میں) اس وقت عرب کے اطراف میں دو بڑی طاقتیں Super Power موجود تھیں۔ ایک روم کی عیسائی حکومت جو دو باتوں میں مسلمانوں سے قریب تھے۔ ایک یہ کہ دونوں اہل کتاب تھے، دوسرے دونوں آخرت پر ایمان رکھتے تھے۔ لہٰذا مسلمانوں کی ہمدردیاں انھیں کے ساتھ تھیں۔ مسلمانوں کی عیسائی حکومت سے ہمدردی کی ایک اور وجہ یہ بھی تھی اسی زمانہ میں مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور قریشیوں نے مسلمانوں کو واپس لانے کی کوشش کے باوجود حبشہ کے عیسائی بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں کو اپنے ہاں پناہ دی اور قریش کی سفارت کو بری طرح ناکام ہو کر وہاں سے واپس آنا پڑا تھا۔ اور دوسری ایران کی حکومت جو دو وجوہ سے مشرکین مکہ سے قریب تھے۔ ایک یہ کہ دونوں مشرک تھے۔ ایرانی دو خداؤں کے قائل اور آتش پرست تھے اور مشرکین بت پرست تھے اور دوسرے یہ کہ دونوں آخرت کے منکر تھے۔ انہی وجوہ کی بنا پر مشرکین مکہ کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش 570 ء میں ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت 610 ء میں عطا ہوئی تھی۔ روم اور ایران میں جنگ 602 ء سے شروع ہو کر 614 ء تک جاری رہی اور یہ جنگی خبریں مکہ بھی پہنچتی رہتی تھیں۔ جب ایران کی فتح کی کوئی خبر آتی تو مشرکین مکہ بغلیں بجاتے اور اس خبر کو اپنے حق میں نیک فال قرار دیتے تھے اور کہتے کہ جس طرح ایران نے روم کا سر کچلا ہے ایسے ہی ہم بھی کسی وقت مسلمانوں کا سر کچل دیں گے۔ اور واقعہ بھی یہ تھا کہ 610ء کے بعد یہ جنگ دو ملکوں کی جنگ نہ رہی تھی بلکہ اب یہ مجوسیت اور عیسائیت کی جنگ بن چکی تھی۔ 614ء میں خسرو پرویز نے روم کو ایک مہلک اور فیصلہ کن شکست دی۔ شام، مصر اور ایشائے کوچک کے سب علاقے رومیوں کے ہاتھ سے نکل گئے۔
سیدنا ابو بکر اور مشرکوں میں شرط:۔
ہرقل قیصر روم کو ایرانی فوجوں نے قسطنطنیہ میں پناہ گزیں ہونے پر مجبور کر دیا اور رومیوں کا دار السلطنت بھی خطرہ میں پڑ گیا۔ بڑے بڑے پادری قتل یا قید ہو گئے۔ بیت المقدس عیسائیوں کی سب سے زیادہ مقدس صلیب بھی ایرانی فاتحین اٹھا لے گئے اور قیصر روم کا اقتدار بالکل فنا ہو گیا۔ یہ خبر مشرکین مکہ کے لئے بڑی خوش کن تھی انہوں نے مسلمانوں کو چھیڑنا شروع کر دیا اور حضرت ابو بکرؓ سے کہنے لگے کہ جس طرح ایران نے روم کو ختم کر ڈالا ہے ایسے ہی ہم بھی تمہیں مٹا ڈالیں گے۔ یہ آپ کی نبوت کا پانچواں سال تھا۔ مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کر چکے تھے۔ ایسے ہی حالات میں سورۃ روم کی یہ آیات نازل ہوئیں۔ اگرچہ بظاہر اہل روم کی فتح کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے اور مشرکین مکہ ان آیات کا بھی تمسخر اڑا رہے تھے، تاہم حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اسی پیشین گوئی کی بنا پر مشرکین سے شرط باندھ لی کہ اگر بضع کی زیادہ سے زیادہ مدت (بضع تین سے نو تک کے لئے آتا ہے) یعنی 9 سال تک رومی غالب نہ آئے تو میں سو اونٹ تم کو دوں گا ورنہ اتنے ہی اونٹ تم مجھے دو گے۔ اس وقت تک شرط حرام نہیں ہوئی تھی۔ اب حالات نے یوں پلٹا کھایا کہ قیصر روم نے اندر ہی اندر یہ تہیہ کر لیا کہ وہ اپنے کھوئے ہوئے اقتدار کو ضرور واپس لے گا۔ ایک طرف تو اس نے اللہ کے حضور منت مانی کہ اگر اللہ نے اسے ایران پر فتح دی تو حمص سے پیدل چل کر ایلیا (بیت المقدس) پہنچوں گا۔ دوسری طرف نہایت خاموشی کے ساتھ ایک زبردست حملہ کی تیاریاں شروع کر دیں۔ 623ء میں اس نے اپنی مہم کا آغاز آرمینیا سے کیا اور آذربائیجان میں گھس کر زرتشت کے مقام پیدائش ارمیاہ کو تباہ کر دیا اور ایرانیوں کے سب سے بڑے آتش کدے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 622 ء میں ہجرت کر کے مدینہ آئے اور 623 ء میں مسلمانوں نے مشرکین مکہ کو بدر کے مقام پر شکست فاش دی۔ اسی دن مسلمانوں کو یہ خبر مل گئی کہ روم نے ایران کو شکست فاش دے کر اپنا علاقہ آزاد کرا لیا ہے۔ اس طرح مسلمانوں کو تو دوہری خوشیاں نصیب ہو گئیں ان مشرکین مکہ کو دوہری ذلت سے دوچار ہونا پڑا۔ قرآن کی اس عظیم الشان اور محیر العقول پیشین گوئی کی صداقت کا مشاہدہ کر کے بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا اور حضرت ابو بکر صدیقؓ نے مشرکین مکہ سے سو اونٹ وصول کئے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق صدقہ کر دیئے گئے۔