ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الروم (30) — آیت 37

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّ اللّٰہَ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۳۷﴾
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ رزق فراخ کر دیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے، بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔ En
کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کرتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کرتا ہے۔ بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لئے نشانیاں ہیں
En
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے کشاده روزی دیتا ہے اور جسے چاہے تنگ، اس میں بھی ان لوگوں کے لئے جو ایمان ﻻتے ہیں نشانیاں ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

37۔ کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ جس کا چاہے رزق زیادہ کر دیتا ہے اور (جس کا چاہے) کم کر دیتا ہے۔ ایمان [41] لانے والوں کے لئے اس میں بھی کئی نشانیاں ہیں۔
[41] رزق کی کمی بیشی میں اللہ کی مصلحتیں:۔
یعنی رزق کی فراخی اور تنگی تو خالصتاً اللہ کے ہاتھ میں ہے جسے چاہے وہ زیادہ دے اور جسے چاہے کم دے اور اس رزق کی کمی و بیشی میں بھی اس کی کئی مصلحتیں ہوتی ہیں (تفصیل کے لئے دیکھئے سورۃ عنکبوت کی آیت نمبر 62 کا حاشیہ) لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ رزق کی کمی بیشی کی بنا پر انسان اپنے اخلاق ہی بگاڑ لے۔ خوشحالی کا دور آئے تو پھولا نہ سمائے اور کسی کو حتیٰ کہ اللہ کو بھی خاطر میں نہ لائے اور تنگی کا دور آئے تو اللہ کو ہی اپنے شکووں کا ہدف بنالے اور اس کی رحمت سے مایوس ہو جائے۔ بلکہ صحیح طرز عمل یہ ہے کہ رزق کی کمی بیشی سے اللہ اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے اور کامیاب وہ انسان ہے جو ہر حال میں اخلاق فاضلہ کا مظاہرہ کرے۔ خوشحالی آئے تو اللہ کا شکر ادا کرے اور مزید سرنگوں ہو جائے اور تنگی کا وقت آئے تو صبر و تحمل سے کام رکھے اور اللہ کی رحمت کا امیدوار ہے۔ یہ اخلاق فاضلہ بذات خود اللہ کی ایسی نعمت ہے جو نہ کسی کافر و مشرک کو میسر آ سکتی ہے اور نہ کسی دہریئے کو، یہ صرف اسے میسر آتی جو صرف اللہ پر ہی توکل رکھتا ہو۔