اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں، پھر جب وہ تمھیں زمین سے ایک ہی دفعہ پکارے گا تو اچانک تم نکل آؤ گے۔
En
اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جب وہ تم کو زمین میں سے (نکلنے کے لئے) آواز دے گا تو تم جھٹ نکل پڑو گے
25۔ اور (اس کی نشانیوں میں سے) ایک یہ کہ زمین و آسمان اسی کے حکم سے (بلا ستون) قائم [23] ہیں۔ پھر جب وہ تمہیں ایک ہی دفعہ زمین میں سے [24] پکارے گا تو تم زمین سے نکل کھڑے ہو گے۔
[23] ستاروں کی گردش پر کنٹرول کرنے والی ہستی کا وجوب:۔
اللہ تعالیٰ نے جہاں آسمان اور زمین کا ذکر کیا تو اس سے مراد کائنات کا نظام ہوتا ہے۔ جس میں لاتعداد اجرام فلکی محو گردش ہیں۔ اور موجودہ نظریہ کے مطابق ہماری زمین اور چاند اور کئی دیگر سیارے سورج کے گرد گردش کر رہے ہیں۔ عموماً سمجھا یہ جاتا ہے کہ ہر سیارے کی کشش ثقل اسے ایک مخصوص مقام پر جکڑے ہوئے ہے۔ مگر بات صرف اتنی نہیں۔ ہمارے نظام شمسی میں سورج ہی سب سے بڑا ستارہ اور سیارہ ہے۔ لہٰذا اس کی کشش ثقل یا قوت جاذبہ اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ ہر سیارہ کو اپنی طرف کھینچ لے۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ کوئی ایسی مقتدر اور قادر مطلق ایسی ہستی موجود ہو جو باوجود قوت جاذبہ کی کشش کے ان سیاروں کو اپنے اپنے مدارات پر قائم رکھ سکے کوئی سبب طبیعی ایسا نہیں بتلایا جا سکتا جس نے تمام کواکب کو کھلی فضا میں جکڑ بند کر دیا ہے کہ وہ سب سورج کے گرد چکر لگانے میں ہمیشہ معین مدارات پر ایک خاص حیثیت میں بھی حرکت کریں جس میں کبھی تخلف نہ ہو۔ پھر کواکب کی حرکات اور درجات سرعت میں ان کی اور سورج کی درمیانی مسافت کو ملحوظ رکھتے ہوئے جو دقیق تناسب اور عمیق توازن قائم رکھا گیا ہے کوئی سبب طبیعی نہیں جن سے ان منظم و مربوط سیاروں کو وابستہ کر سکیں۔ ناچار اقرار کرنا پڑتا ہے کہ یہ سارا نظام کسی ایسے زبردست حکیم و علیم کے تحت ہے جو ان تمام اجرام سماویہ کے مواد اور ان کی ماہیت سے پورا واقف ہے وہ جانتا ہے کہ کسی مادہ کی کس قدر مقدار سے کتنی قوت جاذبہ صادر ہو گی اس نے اپنے زبردست اندازہ سے کواکب اور سورج کے درمیان مختلف مسافتیں اور حرکت کے مختلف مدارج مقرر کئے ہیں تاکہ ایک دوسرے سے تصادم اور تزاحم نہ ہو اور سارا عالم ٹکرا کر تباہ نہ ہو جائے۔ [24] اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اسرافیل کے صور پھونکنے کو اپنی پکار سے تعبیر فرمایا ہے۔ یعنی جتنے انسان مر چکے یا قیام قیامت تک مریں گے۔ سب اللہ کی ایک پکار پر اپنی اپنی قبروں سے زندہ ہو کر میدان محشر کی طرف چل کھڑے ہوں گے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔