ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الروم (30) — آیت 23

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖ مَنَامُکُمۡ بِالَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ ابۡتِغَآؤُکُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّسۡمَعُوۡنَ ﴿۲۳﴾
اور اس کی نشانیوں میں سے تمھارا دن اور رات میں سونا اور تمھارا اس کے فضل سے (حصہ) تلاش کرنا ہے۔بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں۔ En
اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے تمہارا رات اور دن میں سونا اور اُس کے فضل کا تلاش کرنا۔ جو لوگ سنتے ہیں اُن کے لیے ان باتوں میں (بہت سی) نشانیاں ہیں
En
اور (بھی) اس کی (قدرت کی) نشانی تمہاری راتوں اور دن کی نیند میں ہے اور اس کے فضل (یعنی روزی) کو تمہارا تلاش کرنا بھی ہے۔ جو لوگ (کان لگا کر) سننے کے عادی ہیں ان کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

23۔ نیز تمہارا رات اور دن کو سونا اور اس کا فضل تلاش کرنا [20] بھی اس کی نشانیوں میں سے ہے۔ جو لوگ غور سے سنتے ہیں ان کے لئے اس میں بھی بہت سی نشانیاں ہیں
[20] نیند اور نیند میں خواب دیکھنا دونوں سر بستہ راز ہیں:۔
کام کاج کرنے کے بعد انسان کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے اگر آرام نہ کرے تو جینا ہی محال ہو جائے۔ لیکن آرام سے مراد یہ نہیں کہ انسان کچھ وقت کام نہ کرے یا بستر پر لیٹ جائے بلکہ جب تک اسے گہری نیند نہ آئے نہ اس کی تھکن دور ہوتی ہے اور نہ وہ مزید کام کاج کرنے کے قابل ہوتا ہے اور محض کام چھوڑنے یا لیٹے رہنے سے مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ نیند کیا چیز ہے اس کی کیفیت اور ماہیت کیا ہے؟ یہ ایسا سربستہ راز ہے جسے انسان ابھی تک نہیں پا سکا۔ اس نے خواب آور دوائیں بھی دریافت کر لیں اور گولیاں بھی بنا لیں مگر وہ اس کی ماہیت کو نہیں پا سکا کہ خواب کے دوران انسان سے کیا چیز کم ہو جاتی ہے کہ اس کے حواس کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر نیند کی حالت میں خواب دیکھنا دوسرا حیران کن مسئلہ ہے کہ یہ خواب انسان کن حواس سے دیکھتا ہے۔ انسان کو بس اتنا معلوم ہے کہ جب وہ زیادہ تھک جائے تو اس کی مرضی ہو یا نہ ہو نیند اسے آدبوچتی ہے۔ کام کاج کے دوران جو Cell انسان کے جسم سے جاتے ہیں۔ ان کی موت شروع ہو جاتی ہے اور ان کے بجائے نئے سیل بن جاتے ہیں اور جب یہ سارا کام سرانجام پا جاتا ہے تو انسان کو خود بخود جاگ آجاتی ہے یعنی نیند کا آنا، نیند سے تھکن دور ہونا پھر تھکن دور ہونے پر تازہ دم ہو کر از خود ہی بیدار ہو جانا، یہ سب قوتیں اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں جو سراسر حکمت اور مصلحت پر مبنی ہیں اور ان میں کسی دوسرے الٰہ کا کوئی عمل دخل نہیں۔
رات کو کام اور دن کو سونا دینی اور دنیوی لحاظ سے مضر ہیں:۔
انسان کے وسائل معاش اور ضروریات زندگی زمین میں چار سو بکھرے ہوئے ہیں۔ نیند کے بعد آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ تازہ دم ہو کر اپنا رزق تلاش کرے۔ رزق تلاش کرنے کے لئے روشنی کی ضرورت تھی لہٰذا اس کام کے لئے دن کا وقت مختص کیا اور نیند کے لئے تاریکی اور خنکی کی ضرورت تھی ایک تاریکی تو انسان کو آنکھیں بند کرنے سے ہی حاصل ہو جاتی ہے، دوسری تاریکی رات کی ہوئی۔ اس طرح آرام کے لئے اللہ نے رات کا وقت مقرر کیا۔ گو آج کل انسان نے ایسے مصنوعی طریقے ایجاد کر لئے ہیں جس سے انسان رات کو کام کرنے کے قابل ہو گیا ہے۔ اور دن کو بھی آرام کرتا ہے اور مادہ پرستانہ دور کا ہی یہ تقاضا ہے۔ اس سے اتنا ہی انسان اللہ کی یاد سے غافل ہو گیا ہے اور دنیا کا نقصان یہ ہے کہ اس سے انسان کی صحت پر ناخوشگوار اثرات مترتب ہوتے ہیں۔ اور قوائے انسانی وقت سے پہلے کمزور ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔