اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھی سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کی طرف (جاکر) آرام پائو اور اس نے تمھارے درمیان دوستی اور مہربانی رکھ دی، بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو غور کرتے ہیں۔
En
اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ اُس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی عورتیں پیدا کیں تاکہ اُن کی طرف (مائل ہوکر) آرام حاصل کرو اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کر دی جو لوگ غور کرتے ہیں اُن کے لئے ان باتوں میں (بہت سی) نشانیاں ہیں
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی، یقیناً غور وفکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں
En
21۔ اور ایک یہ ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لیے بیویاں [18] پیدا کیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔ غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں کئی نشانیاں ہیں
[18] مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کے طالب بھی ہیں اور مطلوب بھی:۔
یعنی مٹی کے پتلے سے ہی اس کا جوڑا پیدا کرتا ہے جو انسانیت کے لحاظ سے ایک ہی جنس ہے۔ لیکن جسمانی ساخت کے لحاظ سے یہ دو قسمیں ہیں۔ جو دونوں ایک دوسرے کے طالب بھی ہیں اور مطلوب بھی۔ مرد کو عورت سے اور عورت کو مرد سے سکون حاصل ہوتا ہے۔ اور دونوں میں ایک دوسرے کے لئے اس قدر کشش رکھ دی کہ وہ ایک دوسرے سے الگ رہ کر سکون حاصل کر ہی نہیں سکتے۔ پھر اللہ تعالیٰ کسی جوڑے کو لڑکے ہی عطا کرتا جاتا ہے اور کسی کو لڑکیاں ہی لڑکیاں اور کسی کو ملی جلی اولاد دیتا ہے مگر نوع انسانی پر کبھی کوئی ایسا دور نہیں آیا کہ دنیا میں مرد اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ انھیں بیویاں نہ مل سکیں اور یا عورتیں اس کثیر تعداد میں پیدا ہو جائیں اور مردوں کی تعداد ان کے مقابلہ میں اتنی کم ہو کہ عورتوں کو کوئی خاوند ہی میسر نہ آئے۔
مردوں اور عورتوں کی پیدائش میں ایسا تناسب جو بقائے نوع کے لیے ضروری ہے :۔
گویا مرد و عورت کی تخلیق میں بھی اللہ تعالیٰ اس تناسب کو بھی ملحوظ رکھتا ہے۔ جو بقائے نوع کے لئے ضروری ہے۔ پھر مرد اور عورت کے اسی جذبہ کے نتیجہ میں ہی بقائے نسل انسانی کا راز مضمر ہے۔ اسی سے خاندان اور قبیلے بنتے ہیں اور تمدن اور معاشرت کی داغ بیل پڑتی ہے۔ پھر ان زوجین (میاں، بیوی) میں اس قدر محبت رکھ دی کہ وہ ایک دوسرے پر فنا ہونے کو تیار ہوتے ہیں اور پیدا ہونے والی اولاد کے حق میں دونوں شفیق اور رحیم ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ یہی احساسات و جذبات ان دونوں میں اس حد تک پیدا ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے مقدس رشتہ ازدواج کو تا زیست نباہنے میں کوشاں رہتے ہیں۔ اب ذرا غور کیجئے کہ اگر اللہ تعالیٰ زوجین میں یہ جذبات و احساسات پیدا نہ کرتا تو کیا زمین کی آبادی یا نسل انسانی کی بقا ممکن تھی۔ اور کیا یہ کام اللہ کے سوا کوئی دوسرا الٰہ کر سکتا ہے؟ یا بے جان، بے شعور اور اندھے مادے کے اتفاقات سے یہ ممکن ہے کہ وہ ان حکمتوں اور مصلحتوں کا لحاظ رکھ سکے؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔