ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الروم (30) — آیت 20

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنۡتُمۡ بَشَرٌ تَنۡتَشِرُوۡنَ ﴿۲۰﴾
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمھیں حقیر مٹی سے پیدا کیا، پھر اچانک تم بشر ہو، جو پھیل رہے ہو۔ En
اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ اُس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ پھر اب تم انسان ہوکر جا بجا پھیل رہے ہو
En
اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب انسان بن کر (چلتے پھرتے) پھیل رہے ہو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

20۔ اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہیں مٹی [17] سے پیدا کیا۔ پھر اب تم ایک انسان ہو جو ہر جگہ پھیل رہے ہو۔
[17] انسان کی تخلیق میں اختلاف اور یکسانیت کا حسین امتزاج : انسان کی خود کار مشینری:۔ انسان کیا ہے؟
چند عناصر کا مجموعہ جو سطح ارضی پر ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ مثلاً سوڈیم، کیلشیم، کاربن، اور چند دوسرے نمکیات اور یہ انسان میں کتنی کتنی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ بھی حضرت انسان نے پتہ لگا لیا ہے مگر انھیں عناصر کو اسی مقدار میں لے کر ایک زندہ انسان پیدا کر دینا اس کی بساط اور اس کی سمجھ سے باہر ہے۔ روح کیا چیز ہے، کہاں سے آتی ہے اور کب آتی ہے۔ یہ سمجھنا بھی ناممکنات سے ہے۔ پھر اس مٹی کے پتلے کے اندر اللہ تعالیٰ جذبات، احساسات، عقل، شعور، ارادہ، اختیار اور بے شمار قوتیں پیدا کر دیتے ہیں جو از خود کام کر رہی ہیں اور اسی میں انسان کے ارادہ کو ذرہ بھر دخل نہ ہو گا۔ سامنے سے کسی خطرناک چیز کے منہ پر گرنے کا خطرہ ہو تو انسان کے سوچنے سے پہلے ہی اس کی آنکھ کے پپوٹے بند ہو کر اس کی آنکھوں کو محفوظ کرتے ہیں۔ خوراک ہضم ہو کر معدہ خالی ہو جائے تو از خود بھوک لگ جاتی ہے۔ اور انسان مجبور ہوتا ہے کہ کچھ کھائے۔ بدن کو پانی کی ضرورت ہو تو انسان پانی پینے پر مجبور ہوتا ہے۔ اسی طرح ہضم شدہ خوراک کے فضلات کے دفع کرنے کے لئے طبیعت اس کو مجبور کر دیتی ہے کہ اٹھ کر سب سے پہلے یہ کام کرے۔ پھر اس آدم کے مٹی کے پتلے سے ہی اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے اربوں کی تعداد میں انسان پیدا کر دیئے۔ جن میں سے ہر ایک کی شکل و صورت، آواز، لب و لہجہ، حتیٰ کہ کھانسنے کی آواز دوسرے سے الگ ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ اللہ نے ایک مشین لگا دی ہو جس سے ایک ہی ماڈل کے انسان بن کر نکل رہے ہوں۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی انفرادی توجہ ہوتی ہے۔ کیا اس تخلیق کے عظیم کارنامہ کو اتفاقات کا نتیجہ کہا جا سکتا ہے؟ جیسا کہ مادہ پرستوں کا خیال ہے۔ اور یہ اتفاقات کا ہی نتیجہ ہو تو ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ایک شخص کی ایک ٹانگ لمبی ہو اور دوسری چھوٹی ہو۔ یا ایک آنکھ کی پتلی کالی ہو اور دوسری کی نیلی ہو۔ اختلاف اور یکسانیت کا یہ حسین امتزاج اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ انسان کو بنانے والی ذات قادر مطلق بھی ہے اور حکیم مطلق بھی اور وہ صرف ایک ہی ہو سکتی ہے؟