ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الروم (30) — آیت 16

وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآیِٔ الۡاٰخِرَۃِ فَاُولٰٓئِکَ فِی الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ ﴿۱۶﴾
اور رہ گئے وہ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تو وہ عذاب میں حاضر رکھے جائیں گے۔ En
اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا۔ وہ عذاب میں ڈالے جائیں گے
En
اور جنہوں نے کفر کیا تھا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو جھوٹا ٹھہرایا تھا وه سب عذاب میں پکڑ کر حاضر رکھے جائیں گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

16۔ اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تو ایسے لوگوں کو عذاب [13] میں رکھا جائے گا۔
[13] اس دنیا میں گروہوں اور جماعتوں کی بنیاد یا قوم ہوتی ہے یا وطن یا رنگ یا زبان یا برادری یا مخصوص سیاسی عقائد وغیرہ لیکن قیامت میں ان کی گروہ بندی ان اصولوں کے مطابق ہو گی جو دین کے تقاضے ہیں۔ مثلاً اللہ کے نیک اور فرمانبردار بندوں کی ایک ہی جماعت ہو گی خواہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں بستے ہوں البتہ یہ ممکن ہے کہ ہر پیغمبر کی امت کا الگ الگ گروہ ہو۔ قیامت کے منکروں کی الگ جماعت ہو گی، مشرکوں کی الگ، منافقوں کی الگ۔ نیز یہ گروہ بندی بعض جرائم کے لحاظ سے بھی ہو گی۔ جیسے زانیوں کی الگ، ڈاکوؤں کی الگ، متکبروں کی الگ و غیر ذلک۔ ان میں سے صرف پہلا گروہ جنت میں داخل ہو گا۔ اور وہاں ان کی عزت و تکریم اور تواضع بھی خوب ہو گی۔ باقی سب گروہ جہنم میں داخل ہوں گے گویا لوگوں کی اکثریت تو جہنم کا لقمہ بنے گی اور تھوڑے ہی لوگ ہوں گے جو جنت میں داخل ہوں گے۔