ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الروم (30) — آیت 13

وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہُمۡ مِّنۡ شُرَکَآئِہِمۡ شُفَعٰٓؤُا وَ کَانُوۡا بِشُرَکَآئِہِمۡ کٰفِرِیۡنَ ﴿۱۳﴾
اور ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے کوئی سفارش کرنے والے نہیں ہوں گے اور وہ اپنے شریکوں سے منکر ہو جائیں گے۔ En
اور ان کے (بنائے ہوئے) شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور وہ اپنے شریکوں سے نامعتقد ہوجائیں گے
En
اور ان کے تمام تر شریکوں میں سے ایک بھی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور (خود یہ بھی) اپنے شریکوں کے منکر ہو جائیں گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ اور ان کے شریکوں میں کوئی بھی ان کا سفارشی نہ بنے گا اور وہ خود بھی اپنے شریکوں [12] کے منکر ہو جائیں گے
[12] معبودان باطل کی تین اقسام :۔
دنیا میں جن چیزوں کو اللہ کا شریک سمجھا جاتا رہا ہے یا اس کی صفات و اختیارات میں شریک بنایا جاتا رہا ہے ان کی تین ہی قسمیں ہو سکتی ہیں۔ ایک بے جان اشیاء جیسے پتھر کے بت یا شمس و قمر اور ستارے یا دوسرے شجر و حجر۔ دوسرے ایسے جاندار جنہوں نے کبھی اپنی خدائی کا دعویٰ نہ کیا ہو۔ جیسے ملائکہ، انبیاء، اولیاء اور صالحین۔ نیز بعض جاندار حیوانات، جیسے سانپ اور گائے وغیرہ۔ ان میں انبیاء اور صالحین تو ایسے لوگ ہیں جو دوسروں کو شرک سے سختی سے منع بھی کرتے رہے چہ جائیکہ وہ خود خدائی اختیارات کے طالب ہوں اور تیسرے وہ جاندار جو اپنی خدائی لوگوں سے منوانا چاہتے ہیں جیسے شیاطین، اللہ کے نافرمان بادشاہ، ادارے یا حکومتیں اور وہ اولیاء حضرات جنہوں نے اپنے مریدوں کی سفارش کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے یا یہ کہتے ہیں کہ پیر اپنے مریدوں کے اعمال و احوال سے ہر وقت با خبر رہتا ہے اور مشکل کے وقت انھیں پکارنے پر وہ فریاد کو بھی پہنچ جاتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی سفارش نہ کر سکے گا: اب دیکھئے پہلی قسم کے یعنی بے جان معبودوں سے تو سفارش کی توقع ہی عبث ہے۔ البتہ ان پتھروں اور شجر و حجر کو بھی مشرکوں کے ساتھ جہنم میں ڈال دیا جائے گا تاکہ ایسے احمقوں کی حسرت میں اضافہ ہو نیز یہ اشیاء جہنم کی آگ کو مزید بھڑکا کر ان کے لئے مزید عذاب کا باعث بن جائے۔ دوسری قسم کے معبود اللہ کے حضور صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو ان کمبختوں کو شرک سے منع ہی کرتے رہے ہمیں کیا خبر تھی کہ یہ بد بخت ہماری ہی عبادت شروع کر دیں گے۔ لہٰذا یہ لوگ بھی اپنے عابدوں سے سخت بیزار ہوں گے۔ وہ ان کی سفارش کیا کریں گے۔ تیسری قسم کے لوگ جو فی الواقع مجرم ہوں گے۔ وہ تو خود گرفتار بلا اور عذاب میں ماخوذ ہوں گے۔ وہ اس بات کو غنیمت سمجھیں گے کہ اپنے عابدوں کے گناہوں کا کچھ حصہ ان پر نہ ڈالا جائے گا لہٰذا وہ ایسے دلائل دینا شروع کر دیں گے جن سے یہ ثابت کر سکیں کہ یہ عابد حضرات اپنے جرائم کے خود ہی ذمہ دار تھے۔ اور اس طرح ان کے دشمن بن جائیں گے اور اپنے آپ کو ان سے چھڑانا چاہیں گے۔ اس حال میں بھلا وہ کیا سفارش کر سکیں گے۔ غرض کہ مشرکوں کے شریکوں میں سے کوئی بھی اللہ کے ہاں ان کی سفارش نہ کرے گا یا کرنے کے قابل ہی نہ ہو گا۔