ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ آل عمران (3) — آیت 90

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بَعۡدَ اِیۡمَانِہِمۡ ثُمَّ ازۡدَادُوۡا کُفۡرًا لَّنۡ تُقۡبَلَ تَوۡبَتُہُمۡ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الضَّآلُّوۡنَ ﴿۹۰﴾
بے شک وہ لوگ جنھوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا، پھر کفر میں بڑھ گئے، ان کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی اور وہی لوگ سراسر گمراہ ہیں۔ En
جو لوگ ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے پھر کفر میں بڑھتے گئے ایسوں کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی اور یہ لوگ گمراہ ہیں
En
بےشک جو لوگ اپنے ایمان ﻻنے کے بعد کفر کریں پھر کفر میں بڑھ جائیں، ان کی توبہ ہرگز ہرگز قبول نہ کی جائے گی، یہی گمراه لوگ ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

90۔ مگر جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا پھر اس کفر میں بڑھتے ہی گئے، ان کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی [79] اور حقیقتاً ایسے ہی لوگ گمراہ ہیں
[79] توبہ قبول ہونے کی شرائط:۔
اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ مثلاً یہود حضرت موسیٰؑ پر ایمان لائے تھے۔ پھر حضرت عیسیٰؑ کا انکار کر کے کفر کا رویہ اختیار کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی انکار کر دیا جو ان کے کفر میں مزید اضافہ کا سبب بن گیا۔ ایسے معاندین کے حق میں توبہ کبھی قبول نہ ہو گی۔ دوسری صورت یہ کہ ایک شخص ایمان لایا۔ پھر اس کے بعد مرتد ہو گیا۔ پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسلام دشمنی میں اپنی سرگرمیاں تیز تر کر دیں، تو ایسے شخص کی بھی توبہ قبول نہ ہو گی۔ تیسری صورت یہ ہے کہ مرتد ہو جانے کے بعد کفر پر ڈٹا رہا اور جب موت کا وقت آ پہنچا تو توبہ کی سوجھی۔ اس وقت بھی توبہ قبول نہ ہو گی۔ البتہ جو لوگ اپنی زندگی میں اسلام دشمنی میں سرگرم اور تقریر و تحریر کے ذریعہ لوگوں میں الحاد اور باطل عقائد پھیلانے میں سرگرم رہے ہوں ان کی توبہ قبول ہونے کی صورت اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 160 بایں الفاظ بیان فرمائی۔
﴿ اِلآَ الَّذِيْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَبَيَّنُوْا
یعنی ان کی توبہ کی قبولیت کے لیے تین شرطیں لازم ہیں۔
(1) سچی توبہ کریں۔
(2) اپنے اعمال و افعال درست کر کے اپنی اصلاح کر لیں اور جو کچھ الحاد یا باطل عقائد وہ لوگوں میں پھیلا چکے ہیں۔ برملا اس کی تردید بھی کریں۔ اگر تقریر کے ذریعہ گمراہی پھیلائی ہے تو اسی طرح بھری محفل میں ایسے عقائد سے بیزاری کا اظہار اور اپنی غلطی کا اعتراف کریں اور اگر تحریری صورت میں گمراہی پھیلانے کے مرتکب ہوئے ہیں تو تحریری صورت میں اس کی تلافی اور اپنی غلطی کا اعتراف کریں تو ایسے لوگوں کی بھی توبہ قبول ہو سکتی ہے۔