ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ آل عمران (3) — آیت 82

فَمَنۡ تَوَلّٰی بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۸۲﴾
پھر جو اس کے بعد پھر جائے تو یہی لوگ نافرمان ہیں۔ En
تو جو اس کے بعد پھر جائیں وہ بد کردار ہیں
En
پس اس کے بعد بھی جو پلٹ جائیں وه یقیناً پورے نافرمان ہیں۔ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

82۔ پھر اس کے بعد جو بھی اس عہد سے پھر جائے تو ایسے ہی لوگ [72] فاسق ہیں
[72] بائبل کیوں ناقابل اعتبار ہے:۔
اس پختہ عہد اور بشارتوں کے بعد بھی جو شخص تعصب کی راہ اختیار کرے اور اپنے آپ کو دین کا اجارہ دار سمجھے اور مخالفت پر کمر بستہ ہو جائے تو اس سے زیادہ نافرمانی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے؟ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ جب عیسائیوں سے کہا جاتا ہے کہ تمہیں قرآن پر ایمان لانا چاہئے کیونکہ یہ تمہاری کتاب انجیل کی تصدیق کرتا ہے؟ تو وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ قرآن نہ تو عقیدہ الوہیت مسیح کی تصدیق کرتا ہے نہ مسیح کی ابنیت کو تسلیم کرتا ہے، نہ عقیدہ تثلیث کو اور نہ کفارہ مسیح کو تسلیم کرتا ہے۔ حالانکہ ہماری اناجیل سے یہ سب کچھ ثابت ہے۔ پھر ہم آپ کے قرآن پر کیسے ایمان لائیں اور کیوں کر اسے الہامی کتاب سمجھ سکتے ہیں؟ گویا جن غلط اور گمراہ کن عقائد کی اصلاح اور صحیح عقیدہ توحید کو پیش کرنے کے لیے قرآن نازل ہوا تھا اور حق و باطل کو نکھار کر ان کے اختلافات کا فیصلہ کرنے آیا تھا۔ یہ لوگ ان غلط عقائد سے کچھ اس طرح چمٹے ہوئے ہیں اور مذہبی تعصب کی پٹی ان کی آنکھوں پر کچھ اس طرح بندھی ہوئی ہے کہ وہ انہیں غلط عقائد کو اصل بنیاد قرار دے کر قرآن کی ہی تکذیب شروع کر دیتے ہیں۔ حالانکہ ایسے غلط عقائد صدیوں بعد ان کے علماء کی طرف سے اناجیل میں شامل کر دیئے گئے، اور یہ مجموعہ کچھ اس طرح الہامی مضامین اور الحاقی مضامین میں گڈمڈ ہو گیا کہ بعد میں آنے والے علماء کے لیے یہ معاملہ مشتبہ ہو گیا اور ان میں سے اصل الہامی مضامین کو الگ کرنا مشکل ہو گیا۔ یہی حال تورات کا بھی ہوا۔ بائیبل میں کئی ایسی داخلی شہادتیں آج بھی موجود ہیں جن سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ عبارت الہامی نہیں ہو سکتی۔ بلکہ لوگوں کی طرف سے شامل کی گئی ہے اور ایسی شہادتوں کا ہم نے کسی دوسرے مقام پر ذکر بھی کر دیا ہے۔ ان کے مقابلہ میں قرآن کی سالمیت غیر مذاہب میں بھی مسلم ہے۔ پھر یہ کس قدر اندھیر کی بات ہے کہ ایسی تحریف شدہ کتابوں کو اصلی معیار قرار دے کر قرآن کریم کی تکذیب کی جائے۔