اور بے شک ان میں سے یقینا کچھ لوگ ایسے ہیں جو کتاب (پڑھنے) کے ساتھ اپنی زبانیں مروڑتے ہیں، تاکہ تم اسے کتاب میں سے سمجھو، حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں اور کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں اور اللہ پر جھوٹ کہتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں۔
En
اور ان (اہلِ کتاب) میں بعضے ایسے ہیں کہ کتاب (تورات) کو زبان مروڑ مروڑ کر پڑھتے ہیں تاکہ تم سمجھو کہ جو کچھ وہ پڑھتے ہیں کتاب میں سے ہے حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہے اور کہتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے (نازل ہوا) ہے حالانکہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتا اور خدا پر جھوٹ بولتے ہیں اور (یہ بات) جانتے بھی ہیں
یقیناًان میں ایسا گروه بھی ہے جو کتاب پڑھتے ہوئے اپنی زبان مروڑتا ہے تاکہ تم اسے کتاب ہی کی عبارت خیال کرو حاﻻنکہ دراصل وه کتاب میں سے نہیں، اور یہ کہتے بھی ہیں کہ وه اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے حاﻻنکہ در اصل وه اللہ تعالی کی طرف سے نہیں، وه تو دانستہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہیں
En
78۔ اور ان اہل کتاب سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو تورات کو پڑھتے وقت اپنی زبانوں کو ایسے موڑ دیتے (لہجہ میں ادا کرتے) ہیں۔ تاکہ تم اسے تورات ہی کا حصہ سمجھو حالانکہ وہ تورات (کی عبارت) نہیں ہوتی اور کہتے یہ ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے حالانکہ وہ عبارت اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہیں ہوتی۔ یہ لوگ دیدہ دانستہ [68] جھوٹی باتیں اللہ سے منسوب کرتے ہیں
[68] علماء کا لب و لہجہ سے عوام کو فریب دینا اور خطبیوں کی چالبازیاں:۔
اس آیت میں یہود کی ایک اور چالبازی مذکور ہے۔ خطیبوں اور واعظوں کی عموماً یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ کتاب اللہ کی آیات کو تو خوش آوازی اور لے کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اس کے معانی اور تشریح عام گفتگو کے لہجہ میں کرتے ہیں۔ اب اگر وہ معانی اور تشریح کے الفاظ کی ادائیگی بھی اسی لب و لہجہ میں کریں جس میں وہ کتاب اللہ کی کرتے ہیں تو سننے والے یہ سمجھتے ہیں کہ ان لفظوں کے معانی بھی کتاب اللہ ہی کا حصہ ہیں۔ لوگوں کو فریب دینے اور اپنے خیالات کو اللہ کی طرف منسوب کر دینے کی یہ ایک بد ترین صورت ہے اور اس طرح وہ ہر جھوٹی سچی بات اللہ کے ذمہ لگا کر اس سے مختلف قسم کے مفادات حاصل کرتے ہیں۔ یہود کی جس عادت بد کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے۔ دوسرے اہل کتاب حتیٰ کہ مسلمان بھی اس سے محفوظ نہیں۔ مسلمانوں میں بھی ایک فرقہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کا منکر ہے وہ جب یہ آیت ﴿ قُلْاِنَّمَآاَنَابَشَرٌمِّثْلُكُمْ ﴾ پڑھتے ہیں تو ﴿انما﴾ کے لفظ میں معمولی سی تحریف کر کے اس ایک لفظ کے دو الفاظ بنا کر (ان ما) پڑھتے ہیں۔ پھر اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں۔ ”اے نبی! کہہ دو کہ تحقیق نہیں ہوں میں بشر تم جیسا“ اس طرح جو آیت ان کے عقیدہ کو باطل قرار دیتی تھی۔ اسے اپنے عقیدہ کے مطابق بنا لیتے ہیں۔ اس طرح وہ صرف تحریف لفظی کے ہی مرتکب نہیں ہوتے بلکہ اپنے پیرو کاروں کو اس مزعومہ عقیدہ پر مضبوط رکھنے اور باہمی تفرقہ بازی کی خلیج کو مزید وسیع کرنے کا سبب بنتے ہیں اور یہ سب کچھ زبان کی لے اور لہجہ میں موڑ توڑ کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں