ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ آل عمران (3) — آیت 76

بَلٰی مَنۡ اَوۡفٰی بِعَہۡدِہٖ وَ اتَّقٰی فَاِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۷۶﴾
کیوں نہیں! جو شخص اپنا عہد پورا کرے اور ڈرے تو یقینا اللہ ڈرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ En
ہاں جو شخص اپنے اقرار کو پورا کرے اور (خدا سے) ڈرے تو خدا ڈرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
En
کیوں نہیں (مواخذہ ہوگا) البتہ جو شخص اپنا قرار پورا کرے اور پرہیزگاری کرے، تو اللہ تعالیٰ بھی ایسے پرہیز گاروں سے محبت کرتاہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

76۔ بات یہ ہے کہ جس شخص نے بھی اللہ کے کئے ہوئے عہد کو پورا کیا اور اس سے [66۔ 1] ڈر گیا تو اللہ ایسے ہی پرہیزگاروں کو پسند کرتا ہے
[66۔ 1] یہود کی باطنی خباثتوں کے ذکر کے درمیان ان کی بد دیانتی کا ذکر اس نسبت سے آیا ہے کہ ان دونوں کا منبع ایک ہے اور وہ ہے تقویٰ کا فقدان۔ یعنی یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ایسے بے باک اور نڈر ہو گئے تھے کہ نہ وہ اللہ کے احکام بیان کرنے میں دیانت سے کام لیتے ہیں اور نہ ہی دوسرے لوگوں سے معاملات میں وہ دیانت کو ملحوظ رکھتے تھے۔ ان کے ذہن میں بس ایک ہی سودا سمایا ہوا تھا کہ وہ چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں لہٰذا جو کچھ بھی وہ کر لیں۔ دوزخ کی آگ ان پر حرام کر دی گئی ہے۔ اسی زعم باطل کی بنا پر وہ غیر اسرائیلیوں کے اموال کو ہر جائز و نا جائز طریقے سے ہڑپ کر جانے کو کچھ جرم نہیں سمجھتے تھے۔
یہود میں اہل تقویٰ لوگ:۔
ان میں چند ایک جو فی الواقع اللہ سے ڈرنے والے تھے۔ وہ نہ اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی قسم کی بد دیانتی اور خیانت کے روادار تھے اور نہ لوگوں کے معاملہ میں۔ ایسے ہی متقی لوگوں میں سے ایک عبد اللہ بن سلامؓ اور ان کے حلقہ اثر کے لوگ تھے۔ جو لوگوں سے بھی کسی طرح کی بد دیانتی یا ہیرا پھیری نہیں کرتے تھے۔ اور نہ ہی وعدہ خلافی کرتے تھے اور جب انہیں یہ تسلی ہو گئی کہ یہ نبی واقعی وہی نبی ہیں جن کی تورات میں بشارت دی گئی ہے ہے تو وہ بلا خوف لومۃ لائم فوراً اسلام لے آئے تھے۔