ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ آل عمران (3) — آیت 68

اِنَّ اَوۡلَی النَّاسِ بِاِبۡرٰہِیۡمَ لَلَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ وَ ہٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ وَلِیُّ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۶۸﴾
بے شک سب لوگوں سے ابراہیم کے زیادہ قریب یقینا وہی لوگ ہیں جنھوں نے اس کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ لوگ جو ایمان لائے، اور اللہ ہی ایمان والوں کا دوست ہے۔ En
ابراہیم سے قرب رکھنے والے تو وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کرتے ہیں اور پیغمبر (آخرالزمان) اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور خدا مومنوں کا کارساز ہے
En
سب لوگوں سے زیاده ابراہیم سے نزدیک تر وه لوگ ہیں جنہوں نے ان کا کہا مانا اور یہ نبی اور جو لوگ ایمان ﻻئے، مومنوں کا ولی اور سہارا اللہ ہی ہے، En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

68۔ بلا شبہ حضرت ابراہیم سے قریب تر وہ لوگ تھے جنہوں نے ان کی پیروی کی (پھر ان کے بعد) یہ نبی اور اس پر ایمان لانے [61] والے ہیں اور اللہ ایمان لانے والوں کا ہی حامی و مددگار ہے
[61] عقائد و اعمال کے لحاظ سے حضرت ابراہیمؑ سے قریب تر وہ لوگ تھے جو ان کے پیرو کار تھے یا پھر یہ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے پیرو کار ہیں۔ گویا ایسے لوگوں میں دو صفات ہوتی ہیں ایک تو وہ مشرک نہیں ہوتے۔ دوسرے اللہ تعالیٰ کے سب کے سب احکام بجا لاتے ہیں اور مکمل طور پر اللہ کے فرمانبردار ہوتے ہیں۔ غالباً اسی نسبت سے جو درود امت محمدیہ کو نماز میں پڑھنے کے لیے سکھلایا گیا ہے۔ اس میں ایسے ہی الفاظ وارد ہیں اور وہ اسی آیت کی تفسیر ہیں۔
«اللهم صل على محمد و على آل محمد كما صليت على ابراهيم و على آل ابراهيم انك حميد مجيد. اللهم بارك على محمد و على آل محمد كما باركت على ابراهيم و على آل ابراهيم انك حميد مجيد»