پھر جب عیسیٰ نے ان سے کفر محسوس کیا تو اس نے کہا کون ہیں جو اللہ کی طرف میرے مدد گار ہیں؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کے مددگار ہیں، ہم اللہ پر ایمان لائے اور گواہ ہو جا کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں۔
جب عیسیٰؑ نے ان کی طرف سے نافرمانی اور (نیت قتل) دیکھی تو کہنے لگے کہ کوئی ہے جو خدا کا طرف دار اور میرا مددگار ہو حواری بولے کہ ہم خدا کے (طرفدار اور آپ کے) مددگار ہیں ہم خدا پر ایمان لائے اور آپ گواہ رہیں کہ ہم فرمانبردار ہیں
مگر جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان کا کفر محسوس کر لیا تو کہنے لگے اللہ تعالیٰ کی راه میں میری مدد کرنے واﻻ کون کون ہے؟ حواریوں نے جواب دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی راه کے مددگار ہیں، ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻئے اور آپ گواه رہئے کہ ہم تابعدار ہیں
52۔ پھر جب عیسیٰ کو ان کے کفر و انکار کا پتہ [51] چل گیا تو کہنے لگے: کوئی ہے جو اللہ (کے دین) کے لیے میری مدد کرے؟“ حواری [52] کہنے لگے: ”ہم اللہ (کے دین) کے مددگار ہیں۔ ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور گواہ رہئے کہ ہم مسلمان (اللہ کے فرمانبردار) ہیں۔
[51] سیدنا یحیٰ کا قتل اور عیسیٰ کا ارادہ قتل:۔
حضرت عیسیٰؑ کو پوری طرح معلوم ہو چکا تھا کہ یہود اور ان کے علماء دلائل کے میدان میں مات کھا کر اب ان کی زندگی کے درپے ہو چکے ہیں اور اس کام کے لیے سازشیں تیار کر رہے ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ انبیاء کو ناحق قتل کرنا یہود کی عادت ثانیہ بن چکی ہے۔ وہ یہ بھی دیکھ چکے تھے۔ یہود کے ایک رئیس نے ایک رقاصہ کی فرمائش پر حضرت یحییٰؑ جیسے برگزیدہ پیغمبر کا سر قلم کر ڈالا ہے تو انہیں اپنی موت کے آنے میں کچھ شبہ نہ رہا۔ اب انہیں فکر تھی تو یہ تھی کہ دین کی اشاعت و تبلیغ کا کام نہ رکنا چاہئے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے چند پیرو کاروں کو مخاطب کر کے پوچھا کہ کون ہے جو اس سلسلہ میں میری مدد کرے۔ تاکہ اللہ کے دین کو فروغ حاصل ہو۔
[52] حواری کون تھے؟
اس بات میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ تاہم اس بات پر اتفاق ہے کہ حواری کا مفہوم وہی کچھ ہے جو لفظ انصار کا ہے۔ یعنی اللہ کے نبی اور دین کے مددگار۔ حواری کا مفہوم اس واقعہ سے بھی سمجھ میں آ سکتا ہے کہ غزوہ خندق کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی یوں بھی مدد فرمائی کہ نہایت ٹھنڈی اور تیز ہوا بصورت سخت آندھی چلا دی۔ جس نے کفار کے لشکر کے خیمے تک اکھاڑ پھینکے۔ ان کی ہانڈیاں الٹ گئیں اور وہ بددل ہو کر ناکام واپس چلے جانے کی باتیں سوچنے لگے تو اس صورت حال کی صحیح رپورٹ لینے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ کون ہے جو کفار کے لشکر کی خبر لاتا ہے؟ اس کڑاکے کی سردی میں اور آندھی میں نکل کھڑے ہونے کی کسی کو جرات نہ ہوئی۔ صرف حضرت زبیر بن عوامؓ تھے، جنہوں نے کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جاتا ہوں“ آپ نے پھر دوسری بار وہی سوال دہرایا تو پھر زبیر بن عوامؓ ہی بولے کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جاتا ہوں“ تیسری بار آپ نے پھر سوال دہرایا تو تیسری بار بھی حضرت زبیر بن عوامؓ ہی جانے پر آمادہ ہوئے۔ اس وقت آپ نے فرمایا کہ ہر پیغمبر کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیرؓ ہے۔ [بخاری، کتاب المناقب، باب مناقب الزبیر بن العوام] چنانچہ کچھ حواریوں نے ببانگ دہل اعلان کیا کہ ہم اللہ کے دین کی خدمت کریں گے اور از سر نو عہد و پیمان کیا اور عیسیٰ سے کہا کہ آپ گواہ رہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے اور اس کے فرمانبردار بنتے ہیں: بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حواری حضرت عیسیٰؑ کے صدق دل سے مرید اور خاص شاگرد تعداد میں بارہ تھے اور ان کے نام یہ ہیں: (1) شمعون، جسے پطرس بھی کہتے ہیں، (2) شمعون یا پطرس کا بھائی اندریاس، (3) یعقوب بن زیدی (، 4) یوحنا، (5) یوحنا کا بھائی فلیپوس، (6) برتھولما، (7) تھوما، (8) متی، (9) یعقوب بن حلفائی، (10) تہدی، (11) شمعون کنعانی اور (12) یہودا اسکریوتی۔ یہ وہ بارہ حواری یا انصار تھے۔ جنہوں نے حضرت عیسیٰؑ کی دعوت ہر قیمت پر آگے بڑھانے کا حضرت عیسیٰ سے عہد کیا تھا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔