51۔ لہذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اللہ ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے، لہٰذا[50] اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا رستہ ہے۔“
[50] ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی دعوت بھی بعینہ وہی کچھ تھی جو دوسرے تمام انبیاء کی رہی ہے۔ مثلاً: 1۔ پروردگار یعنی مقتدر اعلیٰ صرف اللہ کی ذات ہے۔ لہٰذا وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے۔ اس لحاظ سے عیسائیوں کا عقیدہ الوہیت مسیح غلط قرار پاتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے نمائندہ کی حیثیت سے نبی کی اطاعت کی جائے اور ہر نبی کی دعوت یہی رہی ہے۔ 3۔ حلت و حرمت اور جواز و عدم جواز کے اختیارات کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ لہٰذا جو باتیں تم نے خود اپنے اوپر حرام قرار دے رکھی ہیں۔ میں اللہ کے حکم سے انہیں حلال قرار دے کر تمہیں ایسی نا جائز پابندیوں سے آزاد کرتا ہوں۔ نیز آپ نے اللہ کے حکم سے یہود پر ہفتہ کے دن کی پابندیوں میں بہت حد تک تخفیف کر دی۔ مگر یہود کی اصلاح نہ ہو سکی اور وہ حضرت عیسیٰؑ کی دشمنی میں آگے بڑھتے ہی چلے گئے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔