پس اس کے رب نے اسے اچھی قبولیت کے ساتھ قبول کیا اور اچھی نشو و نما کے ساتھ اس کی پرورش کی اور اس کا کفیل زکریا کو بنا دیا۔ جب کبھی زکریا اس کے پاس عبادت خانے میں داخل ہوتا، اس کے پاس کوئی نہ کوئی کھانے کی چیز پاتا، کہا اے مریم! یہ تیرے لیے کہاں سے ہے؟ اس نے کہا یہ اللہ کے پاس سے ہے۔ بے شک اللہ جسے چاہتا ہے کسی حساب کے بغیر رزق دیتا ہے۔
En
تو پروردگار نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اسے اچھی طرح پرورش کیا اور زکریا کو اس کا متکفل بنایا زکریا جب کبھی عبادت گاہ میں اس کے پاس جاتے تو اس کے پاس کھانا پاتے (یہ کیفیت دیکھ کر ایک دن مریم سے) پوچھنے لگے کہ مریم یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے وہ بولیں خدا کے ہاں سے (آتا ہے) بیشک خدا جسے چاہتا ہے بے شمار رزق دیتا ہے
پس اسے اس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول فرمایا اور اسے بہترین پرورش دی۔ اس کی خیر خبر لینے واﻻ زکریا (علیہ السلام) کو بنایا، جب کبھی زکریا (علیہ السلام) ان کے حجرے میں جاتے ان کے پاس روزی رکھی ہوئی پاتے، وه پوچھتے اے مریم! یہ روزی تمہارے پاس کہاں سے آئی؟ وه جواب دیتیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے ہے، بے شک اللہ تعالیٰ جسے چاہے بے شمار روزی دے
En
37۔ چنانچہ اس کے پروردگار نے اس کی منت کو بخوشی قبول فرما لیا اور نہایت اچھی طرح اس کی نشو و نما کی اور زکریا کو اس کا [40] سرپرست بنا دیا۔ جب بھی زکریا مریم کے کمرہ میں داخل [41] ہوتے تو اس کے ہاں کوئی کھانے پینے کی چیز موجود پاتے اور پوچھتے ”مریم! یہ تجھے کہاں سے ملا؟ وہ کہہ دیتیں ”اللہ کے ہاں سے“ بلا شبہ اللہ جسے چاہے بے حساب رزق دیتا ہے
[40] حضرت مریمؑ کی والدہ کی منت کو اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت بخشا اور حضرت مریم کی جسمانی اور روحانی تربیت خوب اچھی طرح فرمائی۔ جب وہ سن شعور کو پہنچ گئیں اور مسجد (عبادت خانہ) میں جانے کے قابل ہو گئیں تو سوال یہ پیدا ہوا کہ ان کا کفیل اور نگران کون ہو؟ کیونکہ ہیکل سلیمانی میں بہت سے کاہن تھے جن میں ایک حضرت زکریاؑ بھی تھے۔ بالآخر یہ سعادت حضرت زکریاؑ کے حصہ میں آئی۔ کیونکہ ان کی بیوی حضرت مریمؑ کی حقیقی خالہ تھیں اور یہ قصہ تفصیل سے آگے بیان ہو رہا ہے۔
[41] سیدہ مریم اور اللہ کا رزق:۔
محراب سے مراد وہ جگہ نہیں جو مساجد میں امام کے کھڑے ہونے کے لیے بنائی جاتی ہے، بلکہ محراب ان بالا خانوں کو کہا جاتا تھا جو مسجد کے خادم، مجاورین اور ایسے ہی اللہ کی عبادت کے لیے وقف شدہ لوگوں کے لیے مسجد کے متصل بنائے جاتے تھے۔ انہیں کمروں میں ایک کمرہ حضرت مریمؑ کو دیا گیا تھا۔ جس میں وہ مصروف عبادت رہا کرتیں۔ اس کمرہ میں حضرت زکریاؑ کے علاوہ سب کا داخلہ ممنوع تھا۔ حضرت مریمؑ کے لیے سامان خورد و نوش بھی حضرت زکریاؑ ہی وہاں پہنچایا کرتے تھے۔ پھر بارہا ایسا بھی ہوا کہ حضرت زکریاؑ خوراک دینے کے لیے اس کمرہ میں داخل ہوئے تو حضرت مریمؑ کے پاس پہلے ہی سے سامان خورد و نوش پڑا دیکھا۔ وہ اس بات پر حیران تھے کہ جب میرے بغیر یہاں کوئی داخل نہیں ہو سکتا تو یہ کھانا اسے کون دے جاتا ہے؟ حضرت مریمؑ سے پوچھا تو انہوں نے بلا تکلف کہہ دیا۔ اللہ کے ہاں سے ہی مجھے یہ رزق مل جاتا ہے۔ اس سے زیادہ میں کچھ نہیں جانتی۔ واضح رہے کہ یہ آیت خرق عادت امور پر واضح دلیل ہے۔ انبیاء کے ہاں معجزات اور اولیاء اللہ کے ہاں کرامات کا صدور ہوتا ہی رہتا ہے اور یہ سب کچھ اللہ ہی کی مشیت و قدرت سے ہوتا ہے۔ اور حضرت زکریاؑ کے لیے حیرت و استعجاب کی باتیں دو تھیں۔ ایک یہ کہ آپ جو سامان خورد و نوش حضرت مریمؑ کے پاس پڑا دیکھتے وہ عموماً بے موسم پھلوں پر مشتمل ہوتا تھا اور دوسرے یہ کہ جب میرے سوا اس کمرہ میں کوئی داخل ہو ہی نہیں سکتا تو یہ پھل اور دوسرا سامان خورد و نوش حضرت مریمؑ کو دے کون جاتا ہے؟
سر سید احمد خاں کا نظریہ معجزات:۔
اب جو لوگ خرق عادت امور یا معجزات کے منکر ہیں، انہیں یہاں بھی مشکل پیش آ گئی اور ہمارے زمانے کے ایک مفسر قرآن سر سید تو بڑی آسانی سے ایسی مشکل سے چھٹکارا حاصل کر لیتے ہیں اور اس طرح کے واقعات کو بلا تکلف خواب کا واقعہ کہہ دیتے ہیں۔ حضرت عزیرؑ کے واقعہ میں بھی انہوں نے یہی کچھ کیا تھا اور یہاں بھی یہی کچھ کیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ خواب ہی واقعہ تھا تو حضرت زکریاؑ کو حیرانی کس بات پر ہوئی تھی جو اس سوال کا موجب بنی کہ: ﴿ يٰمَرْيَمُاَنّيٰلَكِهٰذَا﴾ مریم! یہ تجھے کہاں سے یا کیسے مل گیا؟ اور یہ بھی ملاحظہ فرمائیے کہ ایسے مفسر، مفسر قرآن ہوتے ہیں یا محرف قرآن؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔