ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ آل عمران (3) — آیت 180

وَ لَا یَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَبۡخَلُوۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ہُوَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ؕ بَلۡ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمۡ ؕ سَیُطَوَّقُوۡنَ مَا بَخِلُوۡا بِہٖ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ وَ لِلّٰہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۱۸۰﴾٪
اور وہ لوگ جو اس میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے انھیں اپنے فضل سے دیا ہے، ہر گز گمان نہ کریں کہ وہ ان کے لیے اچھا ہے، بلکہ وہ ان کے لیے برا ہے، عنقریب قیامت کے دن انھیں اس چیز کا طوق پہنایا جائے گا جس میں انھوں نے بخل کیا اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی میراث ہے اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، پورا با خبر ہے۔ En
جو لوگ مال میں جو خدا نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمایا ہے بخل کرتے ہیں وہ اس بخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں۔ (وہ اچھا نہیں) بلکہ ان کے لئے برا ہے وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ان کی گردنوں میں ڈالا جائے گا۔ اور آسمانوں اور زمین کا وارث خدا ہی ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہوخدا کو معلوم ہے
En
جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ دے رکھا ہے وه اس میں اپنی کنجوسی کو اپنے لئے بہتر خیال نہ کریں بلکہ وه ان کے لئے نہایت بدتر ہے، عنقریب قیامت والے دن یہ اپنی کنجوسی کی چیز کے طوق ڈالے جائیں گے، آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ تعالیٰ ہی کے لئے اور جو کچھ تم کر رہے ہو، اس سے اللہ تعالیٰ آگاه ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

180۔ جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے مال و دولت عطا کی ہے، پھر وہ اس میں بخل کرتے ہیں قطعاً یہ نہ سمجھیں کہ یہ بخل ان کے حق میں اچھا ہے، بلکہ یہ ان کے لیے بہت برا ہے جس چیز کا وہ بخل کرتے ہیں، قیامت کے دن وہی چیز ان کے گلے کا طوق [178] بن جائے گی۔ اور آسمانوں اور زمین کی میراث [179] تو اللہ ہی کی ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے با خبر ہے
[178] زکوٰۃ نہ دینے کی گناہ کی وعید:۔
آیت نمبر 177 میں یہ بیان ہوا تھا کہ دنیا میں نعمتوں کی فراوانی اس بات کی دلیل نہیں ہوتی کہ اللہ ان پر خوش ہے۔ مال و دولت اسی صورت میں اللہ کی نعمت کہلا سکتا ہے جب کہ اس سے مال کے حقوق ادا کر دیئے جائیں اور اگر بخل سے کام لیا جائے تو یہی مال و دولت عذاب کا باعث بن جاتا ہے چنانچہ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ مال عطا فرمائے، پھر وہ اس سے زکوٰۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اس کا مال ایک گنجے سانپ کی شکل میں ہو گا جس کی آنکھوں پر دو کالے نقطے ہوں گے وہ سانپ اس کے گلے کا طوق بن جائے گا اور اس کی دونوں باچھیں پکڑ کر کہے گا، میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔
[بخاری، کتاب التفسیر، نیز کتاب الزکوٰۃ، باب اثم مانع الزکوٰۃ وقول اللہ:﴿ وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ ....﴾]
[179] ہر چیز اللہ کی میراث ہے:۔
یعنی جو مال تم چھوڑ کر مر جاؤ گے وہ تمہارے وارثوں کا ہو گا اور بالآخر اللہ کی ہی میراث میں چلا جائے گا چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کہتا رہتا ہے کہ یہ میرا مال ہے۔ یہ میرا مال ہے۔ حالانکہ اس کا مال وہی ہے۔ جو اس نے کھالیا یا پہن لیا یا اللہ کی راہ میں دے دیا۔ باقی مال تو اس کے وارثوں کا ہو گا۔“ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے سوال کیا کہ ”افضل صدقہ کون سا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تو تندرستی کی حالت میں مال کی خواہش مالدار ہونے کی امید اور محتاجی کا ڈر رکھتے ہوئے کرے اور اتنی دیر مت لگا کہ حلق میں دم آ جائے تو اس وقت یوں کہنے لگے کہ اتنا مال فلاں کو دے دینا اور اتنا فلاں کو۔ حالانکہ اب وہ تو فلاں کا ہو ہی چکا۔“
[بخاری، کتاب الوصایا، باب الصدقہ عند الموت]