ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ آل عمران (3) — آیت 172

اَلَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِلّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَصَابَہُمُ الۡقَرۡحُ ؕۛ لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا مِنۡہُمۡ وَ اتَّقَوۡا اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۷۲﴾ۚ
وہ جنھوں نے اللہ اور رسول کا حکم مانا، اس کے بعد کہ انھیں زخم پہنچا، ان میں سے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے نیکی کی اور متقی بنے بہت بڑا اجر ہے۔ En
جنہوں نے باوجود زخم کھانے کے خدا اور رسول (کے حکم) کو قبول کیا جو لوگ ان میں نیکوکار اور پرہیزگار ہیں ان کے لئے بڑا ثواب ہے
En
جن لوگوں نے اللہ اور رسول کے حکم کو قبول کیا اس کے بعد کہ انہیں پورے زخم لگ چکے تھے، ان میں سے جنہوں نے نیکی کی اور پرہیزگاری برتی ان کے لئے بہت زیاده اجر ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

172۔ جنہوں نے صدمہ پہنچنے کے بعد بھی اللہ اور رسول کے حکم پر لبیک کہا [170] ان میں جو لوگ نیک کردار اور پرہیزگار ہیں، ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے
[170] حضرت عائشہ صدیقہؓ نے اپنے بھانجے عروہ بن زبیرؓ سے فرمایا: (اے میرے بھانجے تیرے والد اور تمہارے نانا) ابو بکر صدیقؓ بھی انہیں لوگوں میں سے تھے، جب احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو صدمہ پہنچنا تھا، پہنچ چکا اور مشرکین (مکہ کو) لوٹ گئے تو آپ کو خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں واپس آ کر پھر نہ حملہ آور ہوں۔ لہٰذا آپ نے فرمایا کہ کون ان کافروں کا تعاقب کرتا ہے۔ آپ کا یہ ارشاد سن کر ستر آدمی تعاقب کے لیے تیار ہو گئے جن میں ابو بکر صدیقؓ اور زبیر بھی تھے۔
[بخاری، کتاب المغازی، باب: ﴿اَلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ]
اس آیت کی تشریح کے لیے اسی سورۃ کا حاشیہ نمبر 137 ملاحظہ فرمائیے۔