بے شک وہ لوگ جو تم میں سے اس دن پیٹھ پھیر گئے جب دو جماعتیں بھڑیں، شیطان نے انھیں ان بعض اعمال ہی کی وجہ سے پھسلایا جو انھوں نے کیے تھے اور بلاشبہ یقینا اللہ نے انھیں معاف کر دیا، بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت بردبار ہے۔
En
جو لوگ تم میں سے (اُحد کے دن) جبکہ (مومنوں اور کافروں کی) دو جماعتیں ایک دوسرے سے گتھ گئیں (جنگ سے) بھاگ گئے تو ان کے بعض افعال کے سبب شیطان نے ان کو پھسلا دیا مگر خدا نے ان کا قصور معاف کر دیا بےشک خدا بخشنے والا اور بردبار ہے
تم میں سے جن لوگوں نے اس دن پیٹھ دکھائی جس دن دونوں جماعتوں کی مدبھیڑ ہوئی تھی یہ لوگ اپنے بعض کرتوتوں کے باعﺚ شیطان کے پھسلانے میں آگئے لیکن یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا اللہ تعالیٰ ہے بخشنے واﻻ اور تحمل واﻻ
En
155۔ جس دن دونوں لشکروں کی مڈ بھیڑ ہوئی تو تم میں سے کچھ لوگ جو پسپا ہوئے تو اس کی وجہ محض یہ تھی کہ ان کی بعض لغزشوں کی بنا پر شیطان نے ان کے قدم ڈگمگا [148] دیئے تھے۔ بلا شبہ اللہ نے انہیں معاف کر دیا ہے کیونکہ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور بردبار ہے
[148] احد میں آپ کے گرد جمع ہونے والے صحابہ:۔
یعنی غزوہ احد جو مسلمانوں اور کفار مکہ کے درمیان بپا ہوئی۔ اس شکست کے بعد بعض مخلص مسلمانوں نے بھی فرار کی راہ اختیار کر لی تھی۔ بالخصوص اس وقت جب آپ کی وفات کی افواہ پھیلی تھی اور مسلمانوں کے اوسان خطا ہو گئے تھے۔ اس آیت میں ﴿بِبَعْضِمَاكَسَبُوْا﴾ سے مراد بھی وہی درہ کو چھوڑنے اور اللہ کے رسول کی نافرمانی کرنے کی غلطی تھی جو مسلمانوں سے سرزد ہو گئی تھی اور یہ راہ فرار اختیار کرنا ان مومنوں کے اپنے عزم سے نہ تھا بلکہ یہ ایک شیطانی اغوا تھا ورنہ ان کے دل ایمان پر قائم تھے اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف تیرہ یا چودہ مسلمان رہ گئے تھے جن میں سات مہاجرین تھے اور سات انصار۔ مہاجرین میں سے حضرت ابو بکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت علیؓ، حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ، حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ، حضرت زبیر بن عوامؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ تھے اور حضرت عثمانؓ بھی ان لوگوں میں شامل تھے۔ جنہوں نے راہ فرار اختیار کی تھی۔ چنانچہ شیعہ حضرات حضرت عثمانؓ پر ایک یہ طعن بھی کرتے ہیں۔ حالانکہ خود اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ فرار محض شیطانی اغوا تھا۔ ایمان کی کمزوری کی بنا پر نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا قصور معاف فرما دیا ہے۔
سیدنا سعدؓ اور طلحہؓ کی فضیلت:۔
جب آپ زخمی ہوئے اور کفار نے آپ کے گرد گھیرا ڈال لیا تو اس دوران دو صحابہ حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ نے آپ کی جان کی حفاظت کے لیے جانثاری کے بے مثال نمونے پیش کئے۔ چنانچہ حضرت علیؓ کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص کے بعد پھر کسی کے لیے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنے آپ کو یا اپنے ماں باپ کو فدا کیا ہو۔ غزوہ احد کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعدؓ سے یوں فرماتے تھے۔ ”تیر مارو، میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔“ [بخاری، کتاب الجہاد باب المجن ومن یتترس بترس صاحبہ] حضرت طلحہؓ آپ کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ آپ بھی ماہر تیر انداز تھے جو کوئی پاس سے گزرتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے اپنے تیر طلحہؓ کے حوالے کر دو۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ کافروں کے تیر روکنے کے لیے حضرت طلحہؓ کے پاس کوئی چیز نہ تھی تو اپنا بازو آگے کر دیا اور سب تیر اسی پر برداشت کرتے رہے۔ حتیٰ کہ ایک بازو شل ہو گیا تو دوسرا آگے کر دیا۔ چنانچہ قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ میں نے طلحہؓ کا وہ ہاتھ دیکھا جس سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچایا تھا، وہ بالکل شل ہو گیا تھا۔ [بخاری، کتاب المناقب، باب ذکر طلحة بن عبید اللہ]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔