یا تم نے گمان کر لیا کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالانکہ ابھی تک اللہ نے ان لوگوں کو نہیں جانا جنھوں نے تم میں سے جہاد کیا اور تاکہ وہ صبر کرنے والوں کو جان لے۔
En
کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بےآزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور (یہ بھی مقصود ہے) کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے
کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے، حاﻻنکہ اب تک اللہ تعالیٰ نے یہ ﻇاہر نہیں کیا کہ تم سے جہاد کرنے والے کون ہیں اور صبر کرنے والے کون ہیں؟
En
142۔ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ بس یونہی جنت میں داخل ہو جاؤ گے جبکہ ابھی تک اللہ نے یہ دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے جہاد کرنے والے کون ہیں [129] اور صبر کرنے والے کون ہیں؟
[129] جہاد کے ذریعے امتحان:۔
یعنی جنت کے جن اعلیٰ درجات اور مقامات پر اللہ تعالیٰ تمہیں پہچانا چاہتا ہے کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ بس یوں ہی بیٹھے بیٹھے آرام سے وہاں جا پہنچو گے اور اللہ تمہارا امتحان لے کر یہ نہ دیکھے گا کہ جہاد میں حصہ لینے والے اور اس میں ثابت قدم رہنے والے کون کون ہیں۔ جنت کے بلند درجات پر تو وہی لوگ فائز ہوں گے جو اللہ کی راہ میں ہر طرح کی سختیاں جھیلنے اور قربانیاں پیش کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہاں بھی اللہ کے دیکھنے یا جاننے سے وہی مراد ہے جو سابقہ آیت میں مذکور ہوئی یعنی ﴿ وَيَتَّخِذَمِنْكُمْشُهَدَاءَ ﴾ کہ مسلمانوں کی پوری جماعت یہ صورت حال بچشم خود ملاحظہ کرے۔
خباب بن ارت اور مشرکین مکہ کی سزائیں:۔
مکی دور میں مسلمانوں پر قریش مکہ کی طرف سے بے پناہ مظالم اور مصائب ڈھائے جا رہے تھے۔ حضرت خباب بن ارتؓ ان مصائب سے کچھ گھبرا سے گئے اور چاہا کہ جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت فرمائیں کہ جس وقت کی آپ بشارت سناتے ہیں وہ کب آئے گا؟ چنانچہ وہ خود راوی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ کعبہ کے سایہ میں ایک چادر پر تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ اس زمانہ میں ہم مشرک لوگوں سے سخت تکلیفیں اٹھا رہے تھے۔ میں نے آپ سے عرض کیا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے ان مشرکوں کے لیے بددعا کیوں نہیں کرتے؟ یہ سنتے ہی آپ (تکیہ چھوڑ کر) سیدھے بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ (غصے سے) سرخ ہو گیا اور فرمایا: ”تم سے پہلے ایسے لوگ گزر چکے ہیں جن کے گوشت اور پٹھوں میں ہڈیوں تک لوہے کی کنگھیاں چلائی جاتی تھیں۔ مگر وہ اپنے سچے دین سے پھرتے نہیں تھے اور آرا ان کے سر کے درمیان رکھ کر چلا دیا جاتا اور ان کے دو ٹکڑے کر دیے جاتے مگر وہ سچے دین سے نہیں پھرتے تھے اور اللہ ایک دن اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔“ [بخاری، باب بنیان الکعبة باب مالقی النبی و أصحابہ من المشرکین بمکۃ] اور ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ ”مگر تم لوگ تو جلدی مچاتے ہو۔“ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حضرت خباب بن ارتؓ کو صبر و استقلال اور ثابت قدمی کا وہی سبق سکھلایا جو اس آیت میں مسلمانوں کو سکھلایا جا رہا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔