ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ آل عمران (3) — آیت 130

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوا الرِّبٰۤوا اَضۡعَافًا مُّضٰعَفَۃً ۪ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۳۰﴾ۚ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! مت کھائو سود کئی گنا، جو دگنے کیے ہوئے ہوں اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔ En
اےایمان والو! دگنا چوگنا سود نہ کھاؤ اور خدا سے ڈرو تاکہ نجات حاصل کرو
En
اے ایمان والو! بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ تمہیں نجات ملے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

130۔ اے ایمان والو! دگنا چوگنا کر کے سود [118] مت کھاؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم (آخرت میں) نجات پا سکو
[118] سود کی حرمت میں تدریج:۔
سود کی حرمت کا ذکر سورہ بقرہ کی آیات 278۔ 279 میں گزر چکا ہے۔ یہ آیت اس سے پہلے کی نازل شدہ ہے۔ جبکہ مسلمانوں کو سود کی قباحتوں سے متعارف کرانا اس سے نفرت دلانا اور اس کو یکسر چھوڑ دینے کے لیے ذہنوں کو ہموار کرنا مقصود تھا۔ اس مقام پر سود کے ذکر کی وجہ سے مناسبت یہ معلوم ہوتی ہے کہ جنگ احد میں ابتداءً مسلمان جو شکست پر مامور تھا، اس نے جب فتح کے آثار دیکھے تو مال کے طمع سے مغلوب ہو گئے اور اپنے کام کو تکمیل تک پہچانے کے بجائے غنیمت لوٹنے لگ گئے اللہ تعالیٰ نے اس صورت حال کی اصلاح کے لیے زر پرستی کے سرچشمے پر بند باندھنا ضروری سمجھا کیونکہ سود کا خاصہ یہ ہے کہ وہ سود خوار میں حرص و طمع و بزدلی، خود غرضی اور زرپرستی جیسی رذیل صفات پیدا کر دیتا ہے اور سود ادا کرنے والوں میں نفرت غصہ، بغض و حسد جیسی صفات رذیل صفات پیدا کر دیتا ہے اور سود ادا کرنے والوں میں نفرت، غصہ، بغض و حسد جیسی صفات پیدا ہو جاتی ہیں، اور ایسی صفات ایک اسلامی معاشرہ کے لیے سم قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں اور جہاد کی روح کے منافی ہیں اور آخرت میں اخروی عذاب کا سبب بنتی ہیں۔ انہیں وجوہ کی بنا پر سود کو بالآخر مکمل طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔