یقینا تمھارے لیے ان دو جماعتوں میں عظیم نشانی تھی جو ایک دوسرے کے مقابلے میں آئیں، ایک جماعت اللہ کے راستے میں لڑتی تھی اور دوسری کافر تھی، یہ ان کو آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اپنے سے دوگنا دیکھ رہے تھے اور اللہ جسے چاہتا ہے اپنی مدد کے ساتھ قوت بخشتا ہے، بلاشبہ اس میں آنکھوں والوں کے لیے یقینا بڑی عبرت ہے۔
En
تمہارے لیے دو گروہوں میں جو (جنگ بدر کے دن) آپس میں بھڑ گئے (قدرت خدا کی عظیم الشان) نشانی تھی ایک گروہ (مسلمانوں کا تھا وہ) خدا کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ (کافروں کا تھا وہ) ان کو اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا مشاہدہ کر رہا تھا اور خدا اپنی نصرت سے جس کو چاہتا ہے مدد دیتا ہے جو اہل بصارت ہیں ان کے لیے اس (واقعے) میں بڑی عبرت ہے
یقیناً تمہارے لئے عبرت کی نشانی تھی ان دو جماعتوں میں جو گتھ گئی تھیں، ایک جماعت تو اللہ تعالیٰ کی راه میں لڑ رہی تھی اور دوسرا گروه کافروں کا تھا وه انہیں اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا دیکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی مدد سے قوی کرتا ہے۔ یقیناً اس میں آنکھوں والوں کے لئے بڑی عبرت ہے
En
13۔ تمہارے لیے ان دو گروہوں میں نشان عبرت ہے جو (بدر میں) ایک دوسرے کے مقابلہ پر اترے۔ ان میں سے ایک گروہ تو اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافر تھا جو ظاہری آنکھوں سے مسلمانوں کو اپنے سے دو چند دیکھ رہا تھا۔ مگر اللہ تو اپنی مدد [14] سے اس کی تائید کرتا ہے جس کی وہ چاہتا ہے۔ اس واقعہ میں بھی صاحب نظر لوگوں کے لیے سامان عبرت ہے
[14] کافروں کو مسلمانوں کی تعداد دوگنا نظر آنا:۔
اس آیت میں روئے سخن سب قسم کے کافروں سے ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے بدر کے میدان جنگ کا نقشہ پیش فرمایا ہے۔ مسلمان تعداد میں تہائی سے بھی کم تھے۔ تین سو تیرہ اور یہ بعینہ وہی تعداد تھی جو طالوت کے لشکر کی تھی۔ جبکہ مشرکین مکہ کی تعداد ایک ہزار تھی۔ میدان جنگ میں اللہ تعالیٰ نے قلیل ہونے کے باوجود اپنے تابعداروں کو ہی فتح و نصرت عطا فرمائی۔ میدان بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو کچھ اس انداز سے کھڑا کیا تھا کہ وہ کافروں کو اپنی اصل تعداد سے دوگنے نظر آتے تھے اور یہ آپ کی ایک جنگی تدبیر تھی۔ اگرچہ مسلمان تعداد، اسلحہ، جنگ اور سامان خوراک ہر لحاظ سے کافروں کے مقابلہ میں کمزور تھے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنی تائید سے مسلمانوں کی مدد کر کے شاندار فتح عطا فرمائی اور مسلمانوں کو سب کفار کے مقابل ایک جیتی جاگتی قوت بنا دیا۔
جنگ بدر کا ابتدائی منظر اور عریش:۔
غزوہ بدر در اصل کفر اور اسلام کا ابتدائی معرکہ تھا۔ جہاں ایک طرف کفار کو اپنی کثرت تعداد، اسلحہ جنگ کی فراوانی اور اپنی جنگی مہارت پر ناز تھا تو دوسری طرف مسلمان صرف اللہ کی ذات پر تکیہ کیے ہوئے تھے۔ ایک طرف شراب و کباب کا دور چل رہا تھا اور رقص و سرور کی محفلیں برپا تھیں تو دوسری طرف مسلمان اللہ کے حضور دعاؤں اور نمازوں میں مصروف تھے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک الگ خیمہ لگایا ہوا تھا۔ جس میں رات بھر آپ گریہ و زاری کے ساتھ دعاؤں میں مصروف رہے۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ خیمہ میں تشریف لائے اور آپ کی حالت دیکھ کر کہا: اب بس کیجئے آپ نے دعا مانگنے میں انتہا کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کے بعد یہ فرمایا۔ ”اے اللہ! اگر تو نے اس مٹھی بھر جماعت کو آج ختم کر دیا تو قیامت تک تیرا کوئی پرستار باقی نہ رہے گا۔“ یہ دعائیں مانگ کو جب آپ خیمہ سے باہر نکلے تو آپ کے چہرے پر اطمینان کے آثار نمایاں تھے اور اللہ کی طرف سے آپ کو فتح کی بشارت مل چکی تھی۔ [بخاري، كتاب التفسير، زير آيت: ﴿ سَيُهْزَمُالْجَمْعُوَيُوَلُّوْنَالدُّبُرَ﴾]
میدان بدر میں تائید الٰہی کی صورتیں:۔
میدان بدر ایک ریگ زار میدان تھا۔ مگر کافروں نے پہلے پہنچ کر ایک پکی زمین پر قبضہ جما لیا تھا اور مسلمانوں کے پڑاؤ کے لیے سوائے ریتلے میدان کے کچھ نہ تھا۔ اب اللہ کی تائید مسلمانوں کے یوں شامل حال ہوئی کہ ہوا چل پڑی۔ جس کا رخ کفار کے لشکر کی طرف تھا۔ ریت اڑ اڑ کر ان کی زبوں حالی کا باعث بن گئی۔ پھر اس کے بعد بارش ہو گئی، تو کفار کے پڑاؤ میں پھسلن بن گئی اور مسلمانوں کے پاؤں پھسلنے کے بجائے جمنے لگے۔ تیسری تائید الٰہی یہ تھی کہ اللہ نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون و اطمینان نازل فرمایا اور پورے صبر و ثبات کے ساتھ کفار کے مقابلہ میں جم گئے اور چوتھی تائید یہ تھی کہ اللہ نے فرشتے بھیج کر مسلمانوں کو سہارا دیا۔ اس پے در پے تائید الٰہی کی وجہ سے مسلمانوں کو فتح عظیم حاصل ہوئی اور کفر کی کمر ٹوٹ گئی۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اللہ کی تائید صرف اصحاب بدر کے لیے مخصوص نہ تھی۔ اس سے پہلے بھی اللہ نے اپنے بندوں کی ایسی ہی تائید فرمائی اور بعد میں بھی کی اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ شرط صرف یہ ہے کہ مسلمان خالصتاً اللہ کے عبادت گزار اور صرف اسی پر بھروسہ رکھنے والے ہوں۔ جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے۔ فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں