ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ آل عمران (3) — آیت 128

لَیۡسَ لَکَ مِنَ الۡاَمۡرِ شَیۡءٌ اَوۡ یَتُوۡبَ عَلَیۡہِمۡ اَوۡ یُعَذِّبَہُمۡ فَاِنَّہُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۱۲۸﴾
تیرے اختیار میں اس معاملے سے کچھ بھی نہیں، یا وہ ان پر مہربانی فرمائے، یا انھیں عذاب دے، کیوں کہ بلا شبہ وہ ظالم ہیں۔ En
(اے پیغمبر) اس کام میں تمہارا کچھ اختیار نہیں (اب دو صورتیں ہیں) یا خدا انکے حال پر مہربانی کرے یا انہیں عذاب دے کہ یہ ظالم لوگ ہیں
En
اے پیغمبر! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے یا عذاب دے، کیونکہ وه ﻇالم ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

128۔ اے نبی آپ کا اس بات میں کچھ اختیار نہیں۔ اللہ چاہے تو انہیں معاف کر دے، چاہے تو سزا دے [117] وہ بہرحال ظالم تو ہیں ہی
[117] آپﷺ کی زخمی کرنے والوں کے لیے بد دعا:۔
میدان احد کے مزید حالات تو آگے چل کر مذکور ہوں گے۔ یہاں صرف ایک واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس آیت کے نزول کا سبب بنا۔ وہ واقعہ یہ تھا کہ جنگ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اگلا دانت ٹوٹ گیا اور سر زخمی ہو گیا۔ آپ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جاتے اور فرماتے، ”وہ قوم کیسے فلاح پائے گی۔ جس نے اپنے نبی کا سر زخمی کر دیا اور دانت توڑ دیا۔ حالانکہ وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دے رہا تھا“ تو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔
[مسلم۔ كتاب الجهاد، باب غزوه احد] چنانچہ اس موقع پر چند نامور مشرکین کا نام لے لے کر انہیں بددعا دی۔ مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ چند ہی روز گزرے تھے کہ جن مشرکوں کے حق میں آپ نے یہ بد دعا کی تھی، انہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے قدموں پر لا ڈالا اور اسلام کے جانباز سپاہی بنا دیا۔