ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ آل عمران (3) — آیت 115

وَ مَا یَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَلَنۡ یُّکۡفَرُوۡہُ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۱۵﴾
اور وہ جو نیکی بھی کریں اس میں ان کی بے قدری ہرگز نہیں کی جائے گی اور اللہ متقی لوگوں کو خوب جاننے والا ہے۔ En
اور یہ جس طرح کی نیکی کریں گے اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور خدا پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے
En
یہ جو کچھ بھی بھلائیاں کریں ان کی ناقدری نہ کی جائے گی اور اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

115۔ جو بھی بھلائی کا کام وہ کریں گے اسی کی ناقدری [104] نہیں کی جائے گی اور اللہ پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے
[104] اسلام لانے سے سابقہ گناہ معاف مگر نیک کاموں کا اجر ملے گا:۔
یعنی اہل کتاب کے منصف مزاج لوگ جو اسلام لے آئے ہیں۔ ان کے اسلام لانے سے پہلے کے اچھے کاموں کا انہیں بدلہ دیا جائے گا۔ کیونکہ اسلام لانے کے دو فائدے ہیں اور وہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں۔ ایک یہ کہ اسلام لانے سے پہلے کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور دوسرا یہ کہ اسلام لانے سے پہلے نیک اعمال برقرار رکھے جاتے ہیں، یعنی دور کفر کے اچھے کاموں کا بھی انہیں ثواب عطا کیا جائے گا۔ اور کافروں کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ یعنی ان کی نیکیاں برباد اور گناہ لازم ہوتے ہیں۔