ان پر ذلت مسلط کر دی گئی جہاں کہیں وہ پائے جائیں مگر اللہ کی پناہ اور لوگوں کی پناہ کے ساتھ اور وہ اللہ کے بھاری غضب کے ساتھ لوٹے اور ان پر محتاجی مسلط کر دی گئی، یہ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور نبیوں کو کسی حق کے بغیر قتل کرتے تھے، یہ اس لیے کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے گزرتے تھے۔
En
یہ جہاں نظر آئیں گے ذلت (کو دیکھو گے کہ) ان سے چمٹ رہی ہے بجز اس کے کہ یہ خدا اور (مسلمان) لوگوں کی پناہ میں آ جائیں اور یہ لوگ خدا کے غضب میں گرفتار ہیں اور ناداری ان سے لپٹ رہی ہے یہ اس لیے کہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتےتھے اور (اس کے) پیغمبروں کو ناحق قتل کر دیتے تھے یہ اس لیے کہ یہ نافرمانی کیے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے
ان پر ہر جگہ ذلت کی مار پڑی، اﻻّ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی یا لوگوں کی پناه میں ہوں، یہ غضب الٰہی کے مستحق ہو گئے اور ان پر فقیری ڈال دی گئی، یہ اس لئے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے تھے اور بے وجہ انبیا کو قتل کرتے تھے، یہ بدلہ ہے ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا
En
112۔ جہاں بھی یہ لوگ پائے جائیں ذلت ان کے مقدر کر دی گئی ہے الا یہ کہ اللہ کی یا دوسرے لوگوں کی ذمہ داری میں پناہ [102] لے لیں۔ یہ لوگ اللہ کے غضب میں گھر چکے ہیں اور محتاجی ان پر مسلط کر دی گئی ہے یہ اس لیے ہوا کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور انبیاء کو ناحق قتل کر دیتے تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ نافرمان تھے اور اللہ کی حدود سے آگے نکل جاتے تھے
[102] موجودہ اسرائیلی حکومت کی بنیاد:۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہود کی ذلت و رسوائی کے اسباب بیان فرمائے ہیں۔ سب سے پہلے انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی راہ اختیار کی اور حدود اللہ سے تجاوز کرنے لگے، ان گناہوں نے ان کی طبائع پر یہ اثر کیا کہ بڑے بڑے جرائم پر دلیر ہو گئے، جیسے اللہ کی آیات ہی سے انکار کر دینا انہیں چھپا جانا ان میں تحریف کر لینا حتیٰ کہ وہ انبیاء کے قتل کے بھی مرتکب ہوئے۔ پھر جب بد بختی کی اس انتہا کو پہنچ گئے تو ان پر اللہ کا غضب نازل ہوا جس کے نتیجہ میں ذلت و رسوائی اور محتاجی ہمیشہ کے لیے ان کے مقدر کر دی گئی اور اس سے بچاؤ کی دو صورتیں بتلائی گئی ایک یہ کہ اللہ کی ذمہ داری کی پناہ میں آجائیں۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ مسلمان ہو جائیں اور دوسرا یہ کہ کسی مسلمان حکومت کی پناہ میں رہیں اور دوسری یہ کہ غیر مسلم حکومتوں کے سایہ تلے رہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ 1947ء تک باوجود اس کے کہ وہ دنیا کی مالدار ترین قوم تھے۔ دنیا میں دربدر پھرتے ہی رہے۔ 1947ء میں تین عیسائی حکومتوں، برطانیہ، فرانس اور امریکہ کی مدد سے انہوں نے مختصر سے خطہ پر اپنی ایک الگ حکومت قائم کر لی ہے جسے کئی ممالک نے تا حال تسلیم ہی نہیں کیا اور عیسائی حکومتوں نے مسلمانوں سے انتقام کے طور پر مسلمان ممالک کے درمیان یہ حکومت قائم کر کے مسلمانوں کے جگر میں خنجر گھونپا ہے۔ آج بھی اسرائیل کو امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہے اور اسی کے دم قدم سے یہ اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے۔ اگر امریکہ کا سایہ اس کے سر سے اٹھ جائے، تو فوراً اس کا وجود ہی ختم ہو جائے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ جس طرح یہود مغضوب علیہ قوم ہے اسی طرح آج کا مسلمان بھی اللہ کی نافرمانیوں کی بنا پر مغضوب علیہ قوم بن چکا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں پر اللہ کی طرف سے اسرائیل کی صورت میں عذاب نازل ہوا اور جب تک مسلمان باہمی اتفاق و اتحاد کا ثبوت نہ دیں گے اور آپس میں الجھتے اور لڑتے مرتے رہیں گے ان پر یہ عذاب مسلط ہی رہے گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔