اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور جدا جدا نہ ہو جائو اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو، جب تم دشمن تھے تو اس نے تمھارے دلوں کے درمیان الفت ڈال دی تو تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے ایک گڑھے کے کنارے پر تھے تو اس نے تمھیں اس سے بچا لیا۔ اس طرح اللہ تمھارے لیے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم ہدایت پاؤ۔
En
اور سب مل کر خدا کی (ہدایت کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا اور خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو خدا نے تم کو اس سے بچا لیا اس طرح خدا تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ
اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ تعالیٰ کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی، پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں بچا لیا۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ
En
103۔ اور اللہ کی [93] رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر اس وقت کی جب تم [94] ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ پھر اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی تو تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی بن گئے۔ اور تم تو آگ کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے کہ اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ اللہ تعالیٰ اسی انداز سے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم راہ راست کو پا سکو
[93] فرقہ بازی کی ممانعت:۔
اللہ کی رسی سے مراد اللہ کا دین یا کتاب و سنت کے احکام ہیں اور اللہ کی رسی اس لیے کہا گیا ہے کہ یہی وہ رشتہ ہے جو تمام اہل ایمان کا اللہ سے تعلق قائم رکھتا ہے اور دوسری طرف اہل ایمان کو ایک دوسرے سے مربوط بناتا ہے اور کتاب و سنت کے احکام پر سختی سے عمل پیرا ہونے سے اس بات کا امکان ہی نہیں رہتا کہ مسلمانوں میں اختلاف، انتشار یا عداوت پیدا ہو۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنی تمام تر توجہ دینی تعلیمات پر مرکوز رکھیں اور فروعی مسائل میں الجھ کر امت مسلمہ میں انتشار پیدا کر کے فرقہ بندیوں سے پرہیز کریں۔
[94] صحابہ کی باہمی الفت و محبت اور اتفاق کی برکت:۔
یعنی جس وقت پورے عرب میں قبائلی نظام رائج تھا اور لوٹ مار اور قتل و غارت کا بازار گرم تھا۔ کوئی حکومت یا عدالت سرے سے موجود ہی نہ تھی جس کی طرف رجوع کیا جا سکتا۔ اگر کسی قبیلہ کا کوئی آدمی قتل ہو جاتا تو مقتول کا قبیلہ اس وقت تک چین سے نہ بیٹھتا تھا جب تک اس کا انتقام نہ لے لیتا، قبائلی حمیت، جسے قرآن نے حمیۃ جاہلیہ کا نام دیا ہے۔ اس انتہا کو پہنچی ہوئی تھی کہ کوئی فریق یہ سوچنے کی زحمت گوارا ہی نہ کرتا تھا کہ قصور کس کا ہے؟ صرف یہ دیکھا جاتا تھا کہ چونکہ ہمارے قبیلہ کے آدمی کو فلاں قبیلہ کے آدمی نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس لیے اس سے انتقام لینا ضروری ہے۔ پھر اس انتقام میں انصاف کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا تھا۔ ان باتوں کا نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ جہاں کہیں کوئی جنگ چھڑی تو پھر وہ ختم ہونے میں نہ آتی تھی۔ مکہ میں بنی بکر اور بنی تغلب کی لڑائی شروع ہوئی جس میں نصف صدی لگ گئی۔ خاندان کے خاندان تباہ ہو گئے، کشتوں کے پشتے لگ گئے مگر لڑائی ختم ہونے میں نہ آئی تھی۔ تقریباً ایسی ہی صورت حال مدینہ میں اوس و خزرج کے درمیان جنگ بعاث کی تھی۔ عرب بھر کا ہوشمند طبقہ اس صورت حال سے سخت پریشان تھا۔ مگر اس صورت حال سے نجات کی انہیں کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔ پھر یہ صورت حال مکہ اور مدینہ تک ہی محدود نہ تھی بلکہ پورے عرب میں ایک جیسی آگ لگی ہوئی تھی اور قریب تھا کہ پوری عرب قوم نیست و نابود ہو جائے کہ اس حال میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو دولت اسلام سے سرفراز فرمایا۔ جس سے پرانی رنجشیں اور کدورتیں دور ہو گئیں۔ عداوت کے بجائے مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے سے محبت و الفت پیدا ہو گئی اور وہ بالکل بھائیوں کی طرح بن گئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو لڑائی کی آگ کے گڑھے میں گرنے سے اور مرنے کے بعد جہنم کی آگ کے گڑھے میں گرنے سے بچا لیا۔ اسی نعمت الفت و محبت کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ انفال میں فرمایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ: اگر آپ دنیا بھر کی دولت خرچ کر کے ان میں ایسی محبت و الفت پیدا کرنا چاہتے تو نہ کر سکتے تھے۔ یہ اللہ ہی ہے جس نے ان کے دلوں میں الفت پیدا کر دی [8: 63] اور یہ ایک نعمت غیر مترقبہ تھی جو صرف اسلام اور اللہ کی مہربانی سے انہیں نصیب ہوئی اور جسے ہر شخص بچشم خود دیکھ رہا تھا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔