ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ القصص (28) — آیت 86

وَ مَا کُنۡتَ تَرۡجُوۡۤا اَنۡ یُّلۡقٰۤی اِلَیۡکَ الۡکِتٰبُ اِلَّا رَحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوۡنَنَّ ظَہِیۡرًا لِّلۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۫۸۶﴾
اور تو امید نہ رکھتا تھا کہ تیر ی طرف کتاب نازل کی جائے گی مگرتیرے رب کی طرف سے رحمت کی وجہ سے (یہ نازل ہوئی) سو تو ہرگز کافروں کا مددگار نہ بن۔ En
اور تمہیں اُمید نہ تھی کہ تم پر کتاب نازل کی جائے گی۔ مگر تمہارے پروردگار کی مہربانی سے (نازل ہوئی) تو تم ہرگز کافروں کے مددگار نہ ہونا
En
آپ کو تو کبھی اس کا خیال بھی نہ گزرا تھا کہ آپ کی طرف کتاب نازل فرمائی جائے گی لیکن یہ آپ کے رب کی مہربانی سے اترا۔ اب آپ کو ہرگز کافروں کا مددگار نہ ہونا چاہیئے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

86۔ آپ کو ہرگز یہ توقع نہ تھی کہ یہ کتاب [118] (قرآن) آپ پر نازل کی جائے گی۔ یہ تو صرف اللہ کی مہربانی ہے۔ لہذا آپ ہرگز کافروں کے مددگار نہ بنئے۔ [119]
[118] نبی کو نبوت ملنے تک یہ علم نہیں ہوتا کہ اسے نبوت ملنے والی ہے :۔
اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کسی نبی کو بھی نبوت ملنے سے پہلے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اسے نبوت عطا ہو گی۔ حضرت موسیٰؑ کو نبوت عطا ہونے کا واقعہ قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ کہ کس طرح وہ ایک اندھیری اور ٹھنڈی رات کو راہ بھولے ہوئے آگ کی تلاش میں نکل گئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلا کر نبوت سے سرفراز کر دیا۔ بالکل یہ صورت حال آپ سے بھی غار حرا میں پیش آئی تھی۔ پہلی وحی کے بعد آپ گھبرائے ہوئے گھر پہنچے اور کہا: ”مجھے کپڑا اوڑھا دو، کپڑا اوڑھا دو“ پھر جب ذرا گھبراہٹ دور ہوئی تو آپ نے حضرت خدیجہ سے غار حرا کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ: ﴿إنِّيْ خَشِيْتُ عَلٰي نَفْسِي یعنی ”مجھے تو اپنی جان کا بھی خطرہ پڑ گیا تھا“ پھر حضرت خدیجہ آپ کو ساتھ لے کر اپنے خالہ زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو ایک نصرانی عالم اور نیک سیرت انسان تھے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا کہ یہ تو وہی فرشتہ ہے جو موسیٰؑ پر نازل ہوتا تھا۔ [بخاری۔ کتاب الوحی۔ باب کیف بدا الوحی الیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم]
آپ افضل الانبیاء کیسے ہیں؟
دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہر دور کا نبی اپنے دور کا بہترین انسان ہوتا ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ اسے نبوت کے لئے منتخب فرماتا ہے۔ نبوت عطا ہونے کے بعد اس کے فضل و شرف میں مزید اضافہ ہو جاتا اور ہوتا رہتا ہے۔ شریعت کا ایک اصول یہ ہے۔ «الدال على الخير كفاعله» یعنی ”بھلائی کی طرف رہنمائی کرنے والا اس کے کرنے والے کی طرح ہی ہوتا ہے۔“ یعنی اسے بھی اتنا ہی اجر ملتا ہے جتنا کرنے والے کو ملتا ہے۔ اس لحاظ سے ہر نبی اپنی امت کے نیک اعمال بجا لانے والوں کے برابر کے اجر کا مستحق ہوتا ہے اور یہ اس کا اضافہ اجر ہوتا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت چونکہ تمام انبیاء سے زیادہ ہے لہٰذا تمام انبیاء پر آپ کی افضلیت بھی ثابت ہو گئی۔ یہی وہ فضل و شرف ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَكَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكَ عَظِيْمًا [4:113] اور اللہ تعالیٰ کا آپ پر یہ فضل کہ آپ کو نبوت بھی عطا کی گئی اور کتاب بھی دی گئی ایسا فضل تھا جس کی آپ کو بالکل توقع نہیں تھی۔
[119] یعنی اگر آپ کی قوم قریش اور آپ کے بھائی بند اور رشتہ دار دین کے معاملہ میں آپ کا ساتھ نہیں دے رہے بلکہ مخالفت پر اتر آئے ہیں تو اب نہ انھیں اپنا رشتہ دار سمجھو اور نہ کسی بھی معاملہ میں ان کا ساتھ دو یا ان کی حمایت کرو۔ آپ کی مدد اور حمایت کے اب وہی لوگ مستحق ہیں۔ جو آپ پر ایمان لا کر آپ کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اور اللہ نے آپ پر جو اتنی بڑی مہربانی فرمائی ہے تو اس کے شکریہ کے طور پر آپ دین کے معاملہ میں اپنی قوم کی رعایت اور خاطر ہرگز نہ کیجئے۔ اور نہ ہی اپنے آپ کو ان کا ایک فرد شمار کیجئے۔ ہاں ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت ضرور دیتے رہئے مگر احکام الٰہی میں قرابت داری کی بنا پر کوئی لچک نہ رہنے دیجئے۔