ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ القصص (28) — آیت 75

وَ نَزَعۡنَا مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیۡدًا فَقُلۡنَا ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ فَعَلِمُوۡۤا اَنَّ الۡحَقَّ لِلّٰہِ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿٪۷۵﴾
اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہ نکالیں گے، پھر ہم کہیں گے لاؤ اپنی دلیل، تو وہ جان لیں گے کہ بے شک سچ بات اللہ کی ہے اور ان سے گم ہو جائے گا جو وہ گھڑا کرتے تھے۔ En
اور ہم ہر ایک اُمت میں سے گواہ نکال لیں گے پھر کہیں گے کہ اپنی دلیل پیش کرو تو وہ جان لیں گے کہ سچ بات خدا کی ہے اور جو کچھ وہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے جاتا رہے گا
En
اور ہم ہر امت میں سے ایک گواه الگ کرلیں گے کہ اپنی دلیلیں پیش کرو پس اس وقت جان لیں گے کہ حق اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، اور جو کچھ افترا وه جوڑتے تھے سب ان کے پاس سے کھو جائے گا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

75۔ اور ہم ہر ایک امت سے ایک گواہ [99] نکال لیں گے، پھر اسے کہیں گے کہ: (اس سڑک پر) اپنی دلیل [100] پیش کرو۔ اب انھیں معلوم ہو جائے گا کہ بات اللہ ہی کی سچی تھی اور جو کچھ وہ افترا کیا کرتے تھے انھیں کچھ یاد نہ آئے گا۔
[99] یہ گواہ وہ شخص ہو گا جس کے ذریعہ اللہ کا پیغام اس قوم یا گروہ کو پہنچا ہو۔ خواہ وہ کوئی پیغمبر ہو یا کوئی دوسرا بزرگ ہو۔ اور وہ گواہ اس بات کی گواہی دے گا کہ میں نے اللہ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔
[100] بزرگوں کے اقوال اور مکاشفات وغیرہ شرعی دلیل نہیں بن سکتے :۔
اس گواہی کے بعد مجرموں کو موقع دیا جائے گا کہ وہ اس گواہی کے خلاف کوئی عذر پیش کر سکتے ہیں تو کریں اور جب وہ کوئی عذر پیش نہ کر سکیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ تم اللہ کا پیغام پہنچنے کے بعد بھی جو شرک میں ہی مبتلا رہے تو اس بات کے لئے تمہارے پاس کوئی دلیل ہے؟ اور اگر ہے تو اسے پیش کیوں نہیں کرتے؟ دلیل سے یہاں مراد کسی الٰہامی کتاب یا کتاب و سنت کی دلیل ہے۔ جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ اللہ تعالیٰ نے واقعی فلاں فلاں قسم کے اختیارات اپنے فلاں بندوں یا فلاں قسم کے بندوں کو تفویض کر رکھے ہیں۔ اس وقت انھیں اپنے سب اجتہادات، استنباطات اور کج بحثیاں بھول جائیں گی۔ اس لئے کہ شریعت کے واضح احکام کے مقابلہ میں بزرگوں کے اقوال اور مکاشفات کی کچھ حقیقت نہیں ہوتی۔ نہ ہی ایسی باتیں شرعی دلیل کہلا سکتی ہیں۔