ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ القصص (28) — آیت 73

وَ مِنۡ رَّحۡمَتِہٖ جَعَلَ لَکُمُ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ لِتَسۡکُنُوۡا فِیۡہِ وَ لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِہٖ وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۷۳﴾
اور اس نے اپنی رحمت ہی سے تمھارے لیے رات اور دن کو بنایا ہے، تاکہ اس میں آرام کرو اور تاکہ اس کا کچھ فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔ En
اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات کو اور دن کو بنایا تاکہ تم اس میں آرام کرو اور اس میں اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو
En
اسی نے تو تمہارے لیے اپنے فضل وکرم سے دن رات مقرر کر دیے ہیں کہ تم رات میں آرام کرو اور دن میں اس کی بھیجی ہوئی روزی تلاش کرو، یہ اس لیے کہ تم شکر ادا کرو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

73۔ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات اور دن [98] بنائے تاکہ تم (رات کو) اور دن کو اس کا فضل تلاش کر سکو۔ (اگر سوچو) تو شاید تم اس کے شکر گزار بن جاؤ
[98] یہ اللہ کی خاص رحمت ہے کہ اس نے دن رات کا نظام ایسا بنا دیا جس میں تمام مخلوق کے لئے فائدے ہی فائدے ہیں۔ کوئی جاندار مسلسل کام نہیں کر سکتا۔ لہٰذا اللہ نے رات بنا دی جو تاریک بھی ہوتی ہے اور ٹھنڈی بھی اور آرام یا نیند کے لئے یہی دو باتیں ضروری ہیں۔ ان دونوں کی موجودگی میں انسان گہری نیند سو کر دن بھر کی تھکاوٹ دور کر سکتا ہے۔ اور کام کاج کے لئے روشنی ضروری تھی لہٰذا دن اس غرض کے لئے دن بنا دیا۔ اب چاہئے تو یہ تھا کہ انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتا مگر اس اوندھی عقل کے انسان نے اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے الٹا اس کے شریک بنانا شروع کر دیئے۔ اور کئی ہستیوں میں اللہ کے اختیارات کو بانٹنا شروع کر دیا جس کا اسے کوئی حق نہ تھا۔