ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ القصص (28) — آیت 58

وَ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَرۡیَۃٍۭ بَطِرَتۡ مَعِیۡشَتَہَا ۚ فَتِلۡکَ مَسٰکِنُہُمۡ لَمۡ تُسۡکَنۡ مِّنۡۢ بَعۡدِہِمۡ اِلَّا قَلِیۡلًا ؕ وَ کُنَّا نَحۡنُ الۡوٰرِثِیۡنَ ﴿۵۸﴾
اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کر دیں جو اپنی معیشت پر اترا گئی تھیں، تو یہ ہیں ان کے گھر جو ان کے بعد آباد نہیں کیے گئے مگر بہت کم اور ہم ہی ہمیشہ وارث بننے والے ہیں۔ En
اور ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کر ڈالا جو اپنی (فراخی) معیشت میں اترا رہے تھے۔ سو یہ اُن کے مکانات ہیں جو اُن کے بعد آباد ہی نہیں ہوئے مگر بہت کم۔ اور اُن کے پیچھے ہم ہی اُن کے وارث ہوئے
En
اور ہم نے بہت سی وه بستیاں تباه کر دیں جو اپنی عیش و عشرت میں اترانے لگی تھیں، یہ ہیں ان کی رہائش کی جگہیں جو ان کے بعد بہت ہی کم آباد کی گئیں اور ہم ہی ہیں آخر سب کچھ کے وارث En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

58۔ اور کتنی ہی بستیوں کو ہم نے تباہ کر دیا جو اپنی معیشت پر [80] اترایا کرتی تھیں۔ سو یہ ہیں ان کے گھر (ویران پڑے ہوئے) ان میں سے چند ہی گھر ہوں گے جو ان کے بعد آباد ہوئے اور آخر ہم ہی ان کے وارث ہوئے۔ [81]
[80] یہ کفار مکہ کے اعتراض کا دوسرا جواب ہے یعنی تمہیں خطرہ یہ ہے کہ اگر تم مسلمان ہو گئے تو تمہاری سیاسی برتری اور تمہاری معیشت تباہ ہو جائے گی اور جس معیشت پر اس وقت تم اترا رہے ہو تو جن لوگوں نے تم سے پہلے اپنی معیشت پر گھمنڈ کیا تھا ان کا انجام بھی تمہارے ساتھ ہے۔ ان لوگوں نے اسی گھمنڈ میں آکر تکبر اور سرکشی کی راہ اختیار کی تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اس طرح تباہ و برباد کر ڈالا کہ ان کا نام و نشان بھی باقی نہ رہ گیا۔ ان کی بستیوں کے کھنڈرات تم دیکھتے رہتے ہو۔ پھر اگر تم نے بھی انہی لوگوں کی روش اختیار کی تو کیا وجہ ہے کہ تمہارا وہی انجام نہ ہو جو ان کا ہوا تھا۔
[81] کفار کے اعتراض کا دوسرا جواب، معیشت عذاب سے نہیں بچا سکتی :۔
یعنی اپنی معیشت پر اترانے اور اپنا معیار زندگی بلند رکھنے والے لوگ مرکھپ گئے اور ان کی جائیدادیں جن پر وہ گھمنڈ کیا کرتے تھے سب وہیں دھری کی دھری رہ گئیں۔ ان کا کوئی وارث بھی باقی نہ رہا۔ بالآخر ہم ہی ان کے وارث ہوئے کہ جنہیں ہم چاہیں وہاں آباد کر کے وہ جائیدادیں ان کے حوالے کر دیں۔