ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ القصص (28) — آیت 55

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغۡوَ اَعۡرَضُوۡا عَنۡہُ وَ قَالُوۡا لَنَاۤ اَعۡمَالُنَا وَ لَکُمۡ اَعۡمَالُکُمۡ ۫ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ ۫ لَا نَبۡتَغِی الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۵۵﴾
اور جب وہ لغو بات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال۔ سلام ہے تم پر، ہم جاہلوں کو نہیں چاہتے۔ En
اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو ہمارے اعمال اور تم کو تمہارے اعمال۔ تم کو سلام۔ ہم جاہلوں کے خواستگار نہیں ہیں
En
اور جب بیہوده بات کان میں پڑتی ہے تو اس سے کناره کر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم پر سلام ہو، ہم جاہلوں سے (الجھنا) نہیں چاہتے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

55۔ اور جب کوئی لغو بات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کرتے ہیں [75] اور کہتے ہیں: ہمارے لئے ہمارے اعمال میں اور تمہارے لئے تمہارے۔ تم پر سلام! ہم جاہلوں سے تعلق نہیں رکھنا چاہتے“
[75] لغو سے کنارہ کرنے والے نومسلم عیسائی اور ابو جہل :۔
ایسے مسلمانوں کی تیسری صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ لغو کاموں یا بے ہودہ باتوں میں نہ صرف یہ کہ ان میں شامل نہیں ہوتے بلکہ ایسے کاموں سے کنارہ کش رہتے ہیں۔ اور اگر ایسے لوگوں سے سابقہ پڑ جائے تو ان سے تعرض نہیں کرتے بلکہ سلام کہہ کر گزر جاتے ہیں جس سے ان کی مراد ایسے کاموں سے بیزاری کا اظہار ہوتا ہے۔ سیرت کی کئی کتابوں میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ ہجرت حبشہ کے بعد جب حبشہ کے لوگ اسلام اور اس کی دعوت سے متعارف ہوئے تو وہاں سے بیس آدمی، جو عیسائی تھے اس غرض کے لئے مکہ آئے کہ یہ تحقیق کریں کہ پیغمبر اسلام کیسے شخص آئے ہیں۔ جب وہ لوگ آپ سے ملے اور گفتگو شروع ہوئی تو آپ نے انھیں قرآن پڑھ کر سنایا جس سے وہ اس قدر متاثر ہوئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور بڑے پرزور طریقہ پر آپ کی تصدیق و تائید کی۔ جب مشرف بہ اسلام ہو کر حبشہ واپس جانے لگے تو ابو جہل اور اس کے ساتھیوں نے ان پر آوازے کسے کہ ایسے احمقوں کا قافلہ آج تک کسی نے نہ دیکھا ہو گا۔ جو ایک شخص کی تحقیق کرنے کے لئے آئے تھے۔ اور اب اس کے غلام بن کر اور اپنا دین چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ انہوں نے جواب میں کہا: ہماری طرف سے تم پر سلام ہے ہم تمہاری جہالت کا جواب جہالت سے نہیں دینا چاہتے۔ ہم میں اور تم میں جو جس حال پر ہے وہی کچھ اس کا حصہ ہے۔ ہم نے اپنے آپ کا بھلا چاہنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ اسی کے متعلق یہ آیات نازل ہوئیں۔ [البدايه والنهايه ج 3 ص 82]
ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص سے یہ توقع نہ ہو کہ ہدایت کی بات قبول کر لے گا بلکہ یہ خطرہ ہو کہ یہ الٹا چڑ جائے گا ایسے شخص کو سمجھانے کے بجائے اس سے کنارہ کرنا ہی بہتر ہے۔