ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ القصص (28) — آیت 44

وَ مَا کُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِیِّ اِذۡ قَضَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسَی الۡاَمۡرَ وَ مَا کُنۡتَ مِنَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿ۙ۴۴﴾
اور اس وقت تو مغربی جانب میں نہیں تھا جب ہم نے موسیٰ کی طرف حکم کی وحی کی اور نہ تو حاضر ہونے والوں سے تھا۔ En
اور جب ہم نے موسٰی کی طرف حکم بھیجا تو تم (طور کی) غرب کی طرف نہیں تھے اور نہ اس واقعے کے دیکھنے والوں میں تھے
En
اور طور کے مغربی جانب جب کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی، نہ تو تو موجود تھا اور نہ تو دیکھنے والوں میں سے تھا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

44۔ اور جب ہم نے موسیٰ کے امر (رسالت) کا فیصلہ کیا تھا تو آپ (طور کی) غربی جانب [57] موجود نہ تھے۔ اور نہ ہی (اس واقعہ کے) گواہ [58] تھے۔
[57] انبائے غیب سے آپﷺ کی نبوت کی دلیل :۔
یعنی آپ کا وہاں موجود نہ ہونا پھر ان حالات کو یوں بیان کرنا جسے کوئی عینی شاہد بیان کرتا ہے۔ اس بات کی قوی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ ورنہ آپ کے پاس وحی الٰہی کے سوا ان واقعات کو جاننے کا اور کوئی ذریعہ نہیں۔
[58] ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس کا وہی مطلب ہے جو اوپر بیان ہوا۔ اور اگر اس جملہ کو الگ واقعہ سمجھا جائے تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ آپ ان ستر (70) آدمیوں سے بھی نہیں تھے جنہوں نے موسیٰؑ سے دیدار الٰہی کا مطالبہ کیا تھا۔ اور وہ واقعہ بھی آپ نے لوگوں کو ایسے بتلا دیا جیسے آپ ان میں موجود تھے۔