ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ القصص (28) — آیت 41

وَ جَعَلۡنٰہُمۡ اَئِمَّۃً یَّدۡعُوۡنَ اِلَی النَّارِ ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ لَا یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۴۱﴾
اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو آگ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔ En
اور ہم نے ان کو پیشوا بنایا تھا وہ (لوگوں) کو دوزخ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن اُن کی مدد نہیں کی جائے گی
En
اور ہم نے انہیں ایسے امام بنا دیئے کہ لوگوں کو جہنم کی طرف بلائیں اور روز قیامت مطلق مدد نہ کیے جائیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

41۔ نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا [53] اور قیامت کے دن انھیں کہیں سے مدد نہ [54] مل سکے گی۔
[53] فرعون منکرین حق کا رہنما تھا :۔
یعنی تمام منکرینِ حق اور باطل پرستوں کے لئے وہ مثال قائم کر گیا کہ حق کو کن کن حیلوں بہانوں سے ٹھکرایا جا سکتا ہے۔ انکار حق پر ڈٹ جانے اور آخر دم تک ڈٹے رہنے کے لئے کیا کیا ہتھکنڈے استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ حق پرستوں پر کیسے کیسے مظالم ڈھائے جا سکتے ہیں اور حق کو کیونکر دبایا جا سکتا ہے۔ یہ سب طریقے اپنے بعد میں آنے والوں کو دکھلا کر وہ جہنم کو سدھار چکا اور آج کے مشرکین مکہ انھیں کے طور طریقے اختیار کر کے اسی منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پھر جس طرح فرعون نے اس دنیا میں حق کے دشمنوں کو جہنم کی راہ دکھلائی اسی طرح قیامت کے دن بھی وہ اہل دوزخ کی پیشوائی کرے گا۔ اور انھیں جہنم میں جا پہنچائے گا اور خود ان کی قیادت کر رہا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ ہود کی آیت نمبر 98 میں اس بات کی صراحت فرما دی ہے۔
[54] یعنی اس دنیا میں تو فرعون اور اس کے درباریوں کو اپنے لاؤ لشکر پر بڑا ناز تھا۔ اور انہی فوجوں اور لاؤ لشکر نے ان کا دماغ خراب کر رکھا تھا۔ حالانکہ ان کا لاؤ لشکر ان کی غرقابی کے وقت کسی کام نہ آسکا بلکہ ان کے ساتھ ہی غرق ہو گیا۔ تو قیامت کو بھی یہ لاؤ لشکر ان کے کسی کام نہ آ سکے گا۔ نہ ہی کسی دوسرے ذریعہ سے یہ جہنم کے عذاب سے بچ سکیں گے۔