ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ القصص (28) — آیت 39

وَ اسۡتَکۡبَرَ ہُوَ وَ جُنُوۡدُہٗ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ ظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ اِلَیۡنَا لَا یُرۡجَعُوۡنَ ﴿۳۹﴾
اور وہ اور اس کے لشکر کسی حق کے بغیر زمین میں بڑے بن بیٹھے اور انھوں نے گمان کیا کہ بے شک وہ ہماری طرف واپس نہیں لائے جائیں گے۔ En
اور وہ اور اس کے لشکر ملک میں ناحق مغرور ہورہے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے
En
اس نے اور اس کے لشکروں نے ناحق طریقے پر ملک میں تکبر کیا اور سمجھ لیا کہ وه ہماری جانب لوٹائے ہی نہ جائیں گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

39۔ اور فرعون اور اس کے لشکر اس ملک میں ناحق ہی برے بن بیٹھے تھے اور انھیں یقین ہو گیا تھا کہ ہمارے حضور [51] واپس نہ لائے جائیں گے۔
[51] انھیں اللہ نے زمین کے تھوڑے سے حصہ میں چند دن کے لئے اقتدار بخشا تو وہ یہ سمجھنے لگے کہ ان سے اوپر کوئی ہستی ہے نہیں جو ان سے یہ اقتدار چھین بھی سکتی ہے۔ نہ ہی انھیں کبھی یہ خیال آیا تھا کہ مرنے کے بعد ہمیں اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور ہمارے ایک ایک کام سے متعلق ہم سے باز پرس ہونے والی ہے۔