ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ القصص (28) — آیت 3

نَتۡلُوۡا عَلَیۡکَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰی وَ فِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ لِقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۳﴾
ہم تجھ پر موسیٰ اور فرعون کی کچھ خبر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں، ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔ En
(اے محمدﷺ) ہم تمہیں موسٰی اور فرعون کے کچھ حالات مومن لوگوں کو سنانے کے لئے صحیح صحیح سناتے ہیں
En
ہم آپ کے سامنے موسیٰ اور فرعون کا صحیح واقعہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ ہم آپ کو موسیٰ [1] اور فرعون [2] کے بالکل سچے حالات پڑھ کر سناتے ہیں: ان لوگوں کے (فائدے کے) لئے جو ایمان لاتے [3] ہیں
[1] قرآن میں اکثر مقامات پر قصص الانبیاء کے ضمن میں سیدنا موسیٰؑ کا ذکر پہلے کیوں آیا ہے؟
قرآن کریم میں اکثر مقامات پر حضرت موسیٰؑ اور فرعون کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے اور انبیاء کے ذکر میں حضرت موسیٰؑ کا ذکر پہلے کیا گیا ہے۔ اس کی وجوہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔ مختصراً یہ کہ موسیٰؑ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ شدید حالات میں فریضہ رسالت سرانجام دینے کا حکم ہوا تھا۔ مثلاً یہ کہ حضرت موسیٰؑ جس قوم بنی اسرائیل کے فرد تھے، فرعون نے انھیں اچھوتوں کی طرح کم تر درجہ کی مخلوق اور عملاً غلام بنا کر رکھا ہوا تھا۔ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم قریش ہی کے ایک فرد تھے۔ پھر حضرت موسیٰؑ کو فرعون جیسے مغرور، متمرد اور سرکش، فوراً بھڑک اٹھنے والے فرمانروا کے ہاں دعوت رسالت کے لئے بھیجا گیا تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین اول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ہی قوم کے افراد تھے۔ تیسرے یہ کہ حضرت موسیٰؑ کو یہ بھی حکم تھا کہ دعوت توحید کے ساتھ اپنی قوم بنی اسرائیل کی رہائی کا بھی مطالبہ کریں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کوئی حکم نہ تھا۔ چوتھے یہ کہ آپ فرعون کے اشتہاری مجرم تھے۔ اور اس قصہ کا انجام یہ ہوتا ہے کہ بالآخر اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰؑ اور ان کے ساتھیوں کی مدد کر کے انھیں فرعونیوں سے نجات دلاتے ہیں اور فرعون اور آل فرعون کو دریا میں غرق کر کے ایسے ظالموں کا صفحہ ہستی سے نام و نشان تک مٹا دیتے ہیں۔ گویا اس قصہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اور مسلمانوں کے لئے سبق یہ ہے کہ جب موسیٰؑ نے ایسے شدید حالات اور اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے سب مصائب برداشت کئے تو آپ کو بھی کرنا چاہئیں اور بشارت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس معرکہ حق و باطل میں بالآخر اپنے پیغمبر اور ایمان لانے والوں کو ہی کامیاب کرتا ہے اور ان کے دشمن تباہ ہو جاتے ہیں۔
[2] فرعون کا لقب اور زمانہ :۔
شاہان مصر کا لقب، جیسے قدیم زمانہ میں ترکوں کے بادشاہ خاقان، یمن کے بادشاہ تبع، حبشہ کے بادشاہ نجاشی، روم کے بادشاہ قیصر اور ایران کے بادشاہ کسریٰ کہلاتے تھے ایسے ہی مصر کے بادشاہ فرعون کہلاتے تھے۔ موسیٰؑ کو دو فرعونوں یا دو بادشاہوں سے سابقہ پڑا تھا۔ جس فرعون نے آپ کی پرورش کی تھی اس کا نام رعمسیس تھا اور نبوت ملنے کے بعد جس کے ہاں آپ کو بھیجا گیا تھا وہ رعمسیس کا بیٹا منفتاح تھا۔ ان کا عہد حکومت تقریباً چودہ سو سال قبل مسیح ہے۔
[3] یعنی قرآن کا یہ قصہ بیان کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو بتلایا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں اور متکبروں کا آخر کیا انجام ہوتا ہے اور اللہ کے فرمانبرداروں کا کیا؟ لیکن اس قصہ سے نصیحت، ہدایت اور سبق وہی لوگ حاصل کر سکتے ہیں جو ان واقعات کو درست تسلیم کر کے اور ان میں غور و فکر کر کے ایمان لانے والے ہوں اور جو لوگ اسے محض تاریخی داستان یا افسانہ سمجھتے ہوں، انھیں اس سے کیا عبرت حاصل ہو سکتی ہے؟