ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ القصص (28) — آیت 16

قَالَ رَبِّ اِنِّیۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِیۡ فَاغۡفِرۡ لِیۡ فَغَفَرَ لَہٗ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۶﴾
کہا اے میرے رب! یقینا میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا، سو مجھے بخش دے۔ تو اس نے اسے بخش دیا، بے شک وہی تو بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
بولے کہ اے پروردگار میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے تو خدا نے اُن کو بخش دیا۔ بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے
En
پھر دعا کرنے لگے کہ اے پروردگار! میں نے خود اپنے اوپر ﻇلم کیا، تو مجھے معاف فرما دے، اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا، وه بخشش اور بہت مہربانی کرنے واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

16۔ پھر دعا کی: ”پروردگار! بلا شبہ میں نے اپنے آپ پر [26] ظلم کیا ہے۔ لہذا مجھے معاف فرما دے۔ چنانچہ اللہ نے اسے معاف کر دیا۔ بلا شبہ وہ بڑا بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔
[26] قتل خطا پر سیدنا موسیٰؑ کی دعائے مغفرت:۔
معلوم ایسا ہوتا ہے کہ مقتول کوئی بڈھا اور کمزور سا انسان ہو گا اور پہلے ہی مرنے کے قریب ہو گا۔ اوپر سے موسیٰ جیسے طاقتور انسان کے ایک ہی مکا سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ ورنہ عام حالات میں کسی طاقتور کے مکے سے بھی کم از کم موت واقع نہیں ہوتی۔ اور سبطی سے تو وہ اس شہ پر لڑ رہا تھا کہ وہ حکمران قوم کا فرد تھا۔ اب موسیٰؑ کے ہاتھوں جو اس کی موت واقع ہو گئی تو یہ بہرحال قتل کا جرم تو تھا مگر نا دانستہ طور پر ایسا ہوا تھا اس قتل خطا کے جرم کی موسیٰؑ نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ جرم معاف فرما دیا۔ اس آیت میں ﴿غَفَرَ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور ﴿غَفَرَ کا معنی معاف کرنا بھی ہے اور ڈھانپنا، چھپانا اور پردہ پوشی کرنا بھی اور ﴿مَغْفَرٌ اس خول کو کہتے ہیں جو سپاہی دوران جنگ سر پر رکھ لیتے ہیں۔ اور ان معنوں میں بھی اس لفظ کا استعمال عام ہے۔ اس لحاظ سے حضرت موسیٰؑ کی دعا کا مطلب یہ ہو گا کہ یا اللہ! میرے اس جرم یا میری خطا پر پردہ ڈال دے تاکہ کسی کو اس کی خبر نہ ہو۔ ایسا نہ ہو کہ یہ یہی بات فرقہ وارانہ اشتعال کا باعث بن کر بنی اسرائیل پر کسی عظیم فتنہ کا پیش خیمہ بن جائے۔ اور بہتر یہی ہے کہ موسیٰ کی اس دعا کو دونوں معنوں پر محمول کیا جائے۔ چنانچہ واقعتاً اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ کی اس خطا پر پردہ ڈال دیا اور سوائے اس اسرائیلی کے جس کی آپ نے مدد کی تھی کسی کو بھی اس واقعہ کی خبر نہ ہو سکی۔