ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ القصص (28) — آیت 14

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَ اسۡتَوٰۤی اٰتَیۡنٰہُ حُکۡمًا وَّ عِلۡمًا ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۴﴾
اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا اور پورا طاقت ور ہو گیا تو ہم نے اسے قوت فیصلہ اور علم عطا کیا اور اسی طرح نیکی کرنے والوں کو ہم بدلہ دیتے ہیں۔ En
اور جب موسٰی جوانی کو پہنچے اور بھرپور (جوان) ہو گئے تو ہم نے اُن کو حکمت اور علم عنایت کیا۔ اور ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں
En
اور جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی جوانی کو پہنچ گئے اور پورے توانا ہوگئے ہم نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا، نیکی کرنے والوں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ اور جب موسیٰ اپنی جوانی کو پہنچے اور پورے توانا ہو گئے تو ہم نے انھیں قوت فیصلہ [21] اور علم عطا کیا اور ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیا کرتے ہیں۔
[21] فرعون کے ہاں جدید علوم اور اصول جہانبانی کی تعلیم :۔
بچپن میں آپ کو خالص دیندارانہ ماحول میسر آگیا۔ لہٰذا آپ حضرت یعقوبؑ اور یوسفؑ کی تعلیم سے واقف ہو گئے۔ آپ کے والدین کا گھرانہ ایک شریف اور دیندار گھرانہ تھا اور بچہ جو عادات و خصائل اس عمر میں سیکھتا ہے وہی تمام زندگی اس میں نمایاں رہتی ہیں۔ اس کے بعد آپ شاہی خاندان کے فرد بنے تو مصر میں متداول جدید علوم سے بہرہ ور ہوئے اور اصول جہاں بانی اور حکمرانی بھی از خود اخذ کرتے رہے کیونکہ آپ میں خداداد ذہانت موجود تھی۔ اس مقام پر صحت اور علم سے مراد نبوت نہیں کیونکہ نبوت تو آپ کو بہت مدت بعد عطا ہوئی تھی۔