89۔ جو شخص اس دن بھلائی [98] لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر بدلہ ملے گا اور ایسے ہی لوگ اس دن گھبراہٹ [99] سے امن میں ہوں گے۔
[98] یہاں بھلائی سے مراد ایمان اور اعمال صالحہ ہیں۔ جزا یعنی نیک اعمال کے اچھے بدلہ کے متعلق اللہ کا عام ضابطہ یا قانون یہ ہے کہ ہر نیکی کے عوض دس گنا زیادہ اجر عطا فرمائے اور یہ اس کا اپنے نیک بندوں پر فضل اور احسان ہو گا۔ [6: 16] پھر اگر کوئی عمل انتہائی خلوص اور محض اللہ کی خوشنودی کی خاطر بجا لایا گیا ہو گا اور بعد میں اس کی نگہداشت بھی کی گئی ہو گی تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ سات سو گناہ یا اس سے زیادہ بھی دے سکتا ہے۔ [2: 261] [99] ایمانداروں پر گھبراہٹ طاری نہ ہونے کی دو وجہیں ہوں گی ایک یہ کہ جو کچھ اس دن ہو گا ان کی توقع اور ان کے ایمان کے مطابق ہو گا اور جس حادثہ کی انسان کو پہلے سے خبر ہو وہ اس سے بچاؤ تو کر لیتا ہے مگر اس سے گھبراتا نہیں۔ دوسرے یہ کہ ان کو ان کے اچھے اعمال کا بدلہ ان کی توقع سے بڑھ کر مل رہا ہو گا۔ اس لحاظ سے یہ ان کے گھبرانے کا نہیں بلکہ خوشی کا موقع ہو گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔