ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النمل (27) — آیت 80

اِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی وَ لَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِیۡنَ ﴿۸۰﴾
بے شک تو نہ مُردوں کو سناتا ہے اور نہ بہروں کو اپنی پکار سناتا ہے، جب وہ پیٹھ پھیر کر پلٹ جائیں۔ En
کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو (بات) نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر پھر جائیں آواز سنا سکتے ہو
En
بیشک آپ نہ مُردوں کو سنا سکتے ہیں اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں، جبکہ وه پیٹھ پھیرے روگرداں جا رہے ہوں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

80۔ نہ تو آپ مردوں کو سنا سکتے ہیں اور نہ ایسے بہروں [84] کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں۔
[84] اس آیت میں موتیٰ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے دل مردہ ہو چکے ہیں۔ یعنی آپ کی نصیحت اور ہدایت نہ تو ان لوگوں کو کچھ فائدہ دے سکتی ہے جن کے دل مر چکے ہیں اور نہ ان کو جن کے دلوں کے کان بہرہ ہو چکے ہیں۔ بالخصوص اس صورت میں وہ بہرے الٹے پاؤں بھاگے جا رہے ہوں۔ بہرے کا بھی چہرہ اگر بات کرنے والے کی طرف ہو تو وہ متکلم کے اشاروں سے یا بات کرنے کے انداز سے ہی اس کا کچھ نہ کچھ مفہوم سمجھ سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کا رخ ہی بات کرنے والے سے الٹی طرف ہو، مزید براں وہ بھاگے جا رہا ہو۔ تو اس سے کیا توقع ہو سکتی ہے کہ وہ متکلم کی بات کو کچھ نہ کچھ سمجھ سکے گا۔